.

بشار الاسد کا اقتدار کے خاتمے پر لاطینی امریکا میں پناہ پر غور

شامی نائب وزیر خارجہ کا کیوبا، وینزویلا اور ایکواڈور کا دورہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شامی صدر بشار الاسد اپنے اقتدار کے خاتمے کی صورت میں اپنے، اپنے خاندان اور قریبی حلقے کے لیے لاطینی امریکا میں سیاسی پناہ پر غور کرر ہے ہیں۔

اس بات کا انکشاف اسرائیلی روزنامے ہارٹز نے اپنی بدھ کی اشاعت میں کیا ہے اور اس نے لکھا ہے کہ ''شام کے نائب وزیر خارجہ نے گذشتہ ہفتے لاطینی امریکا کے تین ممالک کیوبا، وینزویلا اور ایکواڈور کے لیڈروں سے ملاقاتیں کی ہیں اور وہ اپنے ساتھ شامی صدر کے ان ممالک کے لیڈروں کے نام لکھے خفیہ خط بھی لے کر گئے تھے''۔

ماضی میں بعض عرب اور مغربی ممالک نے صدر بشار الاسد اور ان کے خاندان کو اقتدار چھوڑنے کی صورت میں پناہ اور تحفظ دینے کی پیش کش کی تھی لیکن اب شاید ان کے لیے سیاسی پناہ کے موقع سے فائدہ اٹھانے کا وقت گزر چکا ہے اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون نے کہا ہے کہ وہ بشار الاسد کو سیاسی پناہ دینے کے حمایت نہیں کریں گے۔

بین کی مون سے شامی صدر کو سیاسی پناہ دینے سے متعلق ممکنہ ڈیل کے بارے میں سوال کیا گیا تھا۔ انھوں نے اس معاملے پر براہ راست تو کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ البتہ امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کسی کو قانونی استثنیٰ دینے کی اجازت نہیں دیتی۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل قطر کے دارالحکومت دوحہ میں موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق عالمی کانفرنس کے موقع پر گفتگو کر رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ جس کسی نے بھی انسانی حقوق کی وسیع پیمانے پر خلاف ورزیاں کی ہیں،اس کا احتساب ہونا چاہیے اور اس کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔

واضح رہے کہ بشار الاسد نے گذشتہ ماہ رشیا ٹوڈے کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ انھیں جلا وطنی پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ شام ہی میں جئیں اور مریں گے۔

دوسری جانب امریکا اس خدشے کا اظہار کر رہا ہے کہ بشار الاسد اقتدار پر اپنی گرفت کمزور پڑنے کی صورت میں مخالفین کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کر سکتے ہیں یا یہ ہتھیار ان کے ہاتھ سے نکل سکتے ہیں۔ اگر انھوں نے ایسا کیا تو انھیں سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے برسلز میں نیٹو کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد کہا: ''شام پر واضح کر دیا گیا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال امریکا کے لیے سرخ لکیر ہو گی''۔ نیٹو کے وزرائے خارجہ نے اس اجلاس میں شام کے پڑوسی ملک ترکی کی سرحد پر پیٹریاٹ میزائل شکن نظام نصب کرنے کی منظوری دی ہے۔