.

شامی وزارت خارجہ کے سابق ترجمان امریکا چلے گئے رپورٹ

جہاد مقدسی جلد نیوز کانفرنس کرنے والے ہیں: قریبی ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شامی وزارت خارجہ کے سابق ترجمان جہاد مقدسی منحرف ہونے کے بعد امریکا چلے گئے ہیں۔

برطانوی روزنامے گارجین نے اپنی منگل کی اشاعت میں سفارتی ذرائع کے حوالے سے ان کے امریکا چلے جانے کی اطلاع دی تھی۔ جہاد مقدسی شامی صدر بشار الاسد کی حکومت میں عیسائی اقلیت سے تعلق رکھنے والے سب سے سنئیر عہدے دار تھے۔

ان کے بارے میں پہلے یہ اطلاع سامنے آئی تھی کہ وہ پہلے بیروت اور وہاں سے برطانیہ جارہے ہیں لیکن برطانوی حکام نے ان کی ملک میں آمد کی تصدیق نہیں کی ہے۔ لبنان کی شیعہ جماعت حزب اللہ کے ملکیتی ٹیلی ویژن چینل المنار نے سوموارکو ایک نشریے میں بتایا تھا کہ جہاد مقدسی کو (بشار الاسد) حکومت کے موقف کے منافی بیانات جاری کرنے پر ان کےعہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔

شامی حکومت نے بھی کہا تھا کہ جہاد مقدسی کو برطرف کردیا گیا ہے اور اس حوالے سے ایک بیان جاری کیا جائے گا لیکن اس نے دوروز گزر جانے کے باوجود ابھی تک ایسا کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

منگل کو یہ اطلاع بھی سامنے آئی تھی کہ دمشق کے علاقے المزہ میں جہاد مقدسی کے مکان کو نذر آتش کر دیا گیا ہے۔ اس واقعہ سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ انھوں نے صدر بشار الاسد کا ساتھ چھوڑ دیا ہے اور منحرف ہوکر ملک سے کہیں اور چلے گئے ہیں۔

عربی روزنامے الشرق الاوسط نے حزب اختلاف کے ذرائع کے حوالے سے لکھا تھا کہ جہاد مقدسی کے منحرف ہونے کی اطلاع منظرعام پر آنے کے فوری بعد صدر اسد کے وفاداروں نے انتقام میں ان کا مکان نذرآتش کردیا تھا۔

جہاد مقدسی کو بشار الاسد کا ''جیمز بانڈ'' قرار دیا جاتا تھا لیکن اب شامی حکومت کی جانب سے انھیں غدار قرار دیا جا رہا ہے اور حزب اختلاف کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کے مکان کو جلانے کا ایک مقصد عیسائی اقلیت کو ڈرانا دھمکانا ہو سکتا ہے کیونکہ انھوں نے ابھی تک صدر اسد کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک میں شرکت نہیں کی اور وہ اسدرجیم کی حمایت کر رہے ہیں۔

درایں اثناء جہاد مقدسی سے قریبی تعلق رکھنے والے افراد کا کہنا ہے کہ وہ کافی عرصہ پہلے شام چھوڑنا چاہتے تھے لیکن وہ اپنے والدین کی دمشق سے بیروت میں محفوظ منتقلی چاہتے تھے۔ان کا کہنا ہے کہ اب جہاد مقدسی جلد ایک نیوز کانفرنس کریں گے۔

جہاد مقدسی روانی سے انگریزی بولتے ہیں اور وہ پیشہ ور ابلاغی ماہر ہیں۔انھیں مارچ 2011ء میں شامی صدر بشار الاسد کے خلاف عوامی تحریک کے آغاز کے بعد وزارت خارجہ کا ترجمان مقرر کیا گیا تھا۔

وہ دمشق میں نیوز کانفرنسوں میں صدر بشار الاسد کی عوامی مزاحمتی تحریک کے خلاف کارروائیوں کا دفاع کرتے اور شامی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں شہریوں کے قتل عام کی تردید کرتے رہے تھے لیکن وہ گذشتہ چند ہفتوں سے میڈیا پر نمودار نہیں ہورہے تھے۔اس سے یہ قیاس آرائی کی گئی تھی کہ انھیں ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے یا وہ خود الگ ہو کر کہیں روپوش ہو گئے ہیں۔