.

صدارتی محل کے باہر مرسی کے حامیوں اور مخالفین میں تصادم، پانچ ہلاک

مصرکے نائب صدر کا نئے آئین پر اتفاق رائے پیدا کرنے پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں صدارتی محل کے باہر صدر محمد مرسی کے حامیوں اور ان کے مخالفین کے درمیان جھڑپوں میں پانچ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

العربیہ کے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ صدر مرسی کے حامیوں اور مخالفین نے ایک دوسرے پر پتھراؤ کیا اور پٹرول بم پھینکے ہیں اور ان کے درمیان لڑائی کے دوران فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئی ہیں۔ ان جھڑپوں کے درمیان حکومت کے حامیوں اور مخالفین کو الگ الگ کرنے کے لیے پولیس کی اضافی نفری طلب کر لی گئی ہے۔

فریقین کے درمیان تازہ جھڑپیں نائب صدر محمود مکی کی صدارتی محل کے اندر نیوز کانفرنس کے بعد شروع ہوئی ہیں۔ اس میں انھوں نے ملک میں جاری بحران کے خاتمے کے لیے آئین کے مسودے پر اتفاق رائے پیدا کرنے پر زور دیا تھا اور کہا تھا کہ حزب اختلاف کی مجوزہ ترامیم کا خیرمقدم کیا جائے گا۔

قاہرہ میں تازہ جھڑپوں کے بعد مصر کے مفتی اعظم اور شیخ الجامعہ الازہر ڈاکٹر احمد الطیب نے تمام مصریوں پر مذاکرات کرنے پر زوردیا ہے۔العربیہ کے نمائندے نے مزید بتایا ہے کہ ملک میں جاری بحران کے بعد صدر کی مشاورتی کونسل کے تین ارکان نے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ ان کے نام سیف عبدالفتاح ،ایمن الصیاد اور عمرو اللیثی ہیں۔

اتفاق رائے

مصر کے نائب صدر محمود مکی اپنی نیوز کانفرنس میں کہا کہ موجودہ بحران کے خاتمے کے لیے آئین کی متنازعہ دفعات پر بریک تھرو ناگزیر ہے۔آئین پر پندرہ دسمبر کو ریفرینڈم کے انعقاد سے قبل متنازعہ دفعات میں ترامیم ضروری ہیں اور اس حوالے سے تمام فریقوں میں اتفاق رائے ہونا چاہیے۔ انھوں نے اس توقع کااظہار کیا کہ بحران کے خاتمے کے لیے جلد حزب اختلاف کے ساتھ مذاکرات ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ''اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے مظاہرین کے مطالبات کا احترام کیا جانا چاہیے۔میں مکمل طور پر پُراعتماد ہوں کہ اگر آیندہ چند گھنٹوں میں نہیں تو آیندہ چند روز میں ہم بحران کے حل کے لیے کسی بریک تھرو میں کامیاب ہوجائیں گے اور اتفاق رائے پیدا ہوجائے گا''۔

نائب صدر نے اس امر کی تصدیق کی کہ آئین پر ریفرینڈم بر وقت ہو گا۔انھوں نے اپوزیشن پر زور دیا کہ وہ آئین پر اپنے اعتراضات کو تحریری طور پر پیش کریں۔اس نیوز کانفرنس کے بعد یہ اطلاع سامنے آئی ہے کہ مصری حزب اختلاف نے نائب صدر کی پیش کش پر غور کے لیے اپنا ایک اجلاس طلب کیا ہے۔اس میں بحران کے حل کے لیے نائب صدر کی پیش کردہ تجاویز پر بھی تبادلہ خیال متوقع ہے۔

نائب صدر کی اس نیوز کانفرنس کے تھوڑی دیر کے بعد ہی صدارتی محل کے باہر جمع صدر محمد مرسی کے حامیوں اور ان کے مخالفین کے درمیان لڑائی شروع ہوگئی تھی اور انھوں نے ایک دوسرے پر پتھراؤ کے علاوہ فائرنگ بھی کی ہے۔صدر کے حامیوں نے صدارتی محل کے باہر حکومت مخالفین کے خیموں کو اکھاڑ دیا۔انھوں نے رات وہیں گزاری تھی اور اپنے مطالبات کے حق میں دھرنا دے رکھا تھا۔

درایں اثناء مصر کے دوسرکردہ سیاست دانوں عمرو موسیٰ اور محمد البرادعی نے صدر محمد مرسی پر زور دیا ہے کہ وہ پُرامن مظاہرین کو تحفظ مہیا کریں۔ البرادعی نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر لکھا ہے کہ ''صدر مرسی کو اپنی بچی کچھی ساکھ کو بچانے کے لیے اپنے محل کے باہر مظاہرہ کرنے والے افراد کو تحفظ مہیا کرنا چاہیے''۔انھوں نے صدر مرسی کو تشدد کا ذمے دار قرار دیا ہے۔

حکومت مخالف ہزاروں افراد نے گذشتہ روز صدارتی محل کے باہر دھرنا دیا تھا اور ان میں سے سیکڑوں نے رات وہیں گزاری تھی۔ انھوں نے صدر کے خلاف جارحانہ نعرے بازی کی تھی اور ان سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کیا تھا۔اخوان المسلمون نے حزب اختلاف کی جانب سے جارحانہ نعرے بازی اور صدارتی محل کے باہر دھرنے کے ردعمل میں آج اپنے حامیوں سے صدر کے حق میں مظاہرے کی اپیل کی تھی۔

اخوان المسلمون کے ترجمان محمود غزلان نے جماعت کے سماجی روابط کی ویب سائٹ فیس بُک پر موجود صفحے پر ایک بیان میں کہا کہ ''صدارتی محل کے باہر ان گروپوں نے غلیظ زبان استعمال کی ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ طاقت کے ذریعے اپنے نقطہ نظر کو دوسروں پر مسلط کرسکتے ہیں''۔

فوری مذاکرات کا مطالبہ

ادھر برسلز میں امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے ایک نیوز کانفرنس میں مصریوں پر زور دیا ہے کہ وہ نئے آئین پر اپنے اختلافات کا خاتمہ کریں۔ انھوں نے کہا کہ بحران کے خاتمے کے لیے فوری ڈائیلاگ ناگزیر ہے۔

انھوں نے کہا کہ قاہرہ اور مصر کے دوسرے شہروں میں ہم ایک مرتبہ پھر اتھل پتھل دیکھ رہے ہیں۔ اس لیے ڈائیلاگ کی فوری ضرورت ہے۔انھوں نے مصریوں کے درمیان آئینی عمل پر باہمی طور پر باوقار انداز میں تبادلہ خیال کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ عدالتوں کو اپنا کام کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔

امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ''مصری ایک ایسے آئین کے حق دار ہیں جو ہرکسی کے حقوق کا تحفظ کرے۔ مردوں اور خواتین، مسلمانوں اور عیسائیوں کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت دے اور اس کے تحت مصر اپنی تمام بین الاقوامی ذمے داریوں کو پورا کرے''۔

انھوں نے مصر میں آئین سازی کے لیے ایک کھلے، شفاف اور منصفانہ دستوری عمل کی ضرورت پر زور دیا جس میں کسی ایک گروپ کی دوسرے کے مقابلے میں بے جا طرف داری نہ کی گئی ہو۔