.

لبنان کے شمالی شہر طرابلس میں جھڑپوں میں سات افراد ہلاک

شامی صدر کے حامیوں اورمخالفین میں مسلح لڑائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
لبنان کے شمالی شہر طرابلس میں شامی صدر بشارالاسد کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپوں میں گذشتہ دو روز میں سات افراد ہلاک اور کم سے کم ساٹھ زخمی ہوگئے ہیں۔

طرابلس میں شام میں اکیس ماہ قبل عوامی احتجاجی تحریک کے آغاز کے بعد سے کشیدگی پائی جارہی ہے اور وقفے وقفے سے شہر کے اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔اہل تشیع شامی صدر بشارالاسد کے حامی جبکہ اہل سنت ان کے مخالف ہیں اور وہ باغی جنگجوؤں کی حمایت کررہے ہیں۔

طرابلس میں تازہ لڑائی گذشتہ جمعہ کو اس شہر سے تعلق رکھنے والے بائیس نوجوانوں کی شام میں سرکاری سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں ہلاکت کے بعد شروع ہوئی تھی۔لبنانی حکام کے مطابق اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان لڑائی کے نتیجے میں بدھ کو چار اور منگل کو تین افراد مارے گئے ہیں۔

طرابلس کے اہل سنت کی آبادی والے علاقے باب التبانہ اور اہل تشیع کے علاقے جبل محسن سے تعلق رکھنے والے مسلح نوجوان ایک دوسرے پر چھپ کر فائرنگ کررہے ہیں۔ان کی فائرنگ کی زد میں آکر ستاون افراد زخمی ہوئے ہیں اور ان میں دو فوجی ہیں۔

درایں اثناء شامی حکومت نے وسطی صوبہ حمص میں سرکاری سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں مارے گئے بائیس لبنانی نوجوانوں کی لاشیں واپس کرنے سے اتفاق کیا ہے۔یہ تمام نوجوان طرابلس سے رکھتے تھے اور وہ صدر بشارالاسد کے خلاف مسلح جدوجہد کرنے والے باغی جنگجوؤں کے شانہ بشانہ شامی فوج کے خلاف لڑنے کے لیے گئے تھے۔

ایک سفارتی ذریعے کے مطابق بیروت میں شامی سفیر علی عبدالکریم علی نے لبنانی وزیرخارجہ عدنان منصور سے رابطہ کیا ہے اور انھیں مطلع کیا ہےکہ شامی حکام نے اکیس لبنانی اور ایک فلسطینی مقتول نوجوان کی لاش واپس کرنے سے اتفاق کیا ہے۔