.

صدر مرسی اپنے نئے اختیارات معطل کر دیں جامعہ الازہر

حزب اختلاف اور صدر کے درمیان غیر مشروط مذاکرات کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کے ممتاز اور تاریخی علمی ادارے جامعہ الازہر نے صدر محمد مرسی پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے متنازعہ حکم نامے کو معطل کر دیں اور اپنے مخالفین کے ساتھ غیر مشروط مذاکرات کا آغاز کریں۔

جامعہ الازہر نے صدارتی محل کے باہر حکومت کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان خونریز جھڑپوں کے بعد جمعرات کو یہ بیان جاری کیا ہے۔ اس میں صدر مرسی پر زور دیا گیا ہے کہ انھیں اپنے حکم نامے کو معطل کر دینا چاہیے اور اس کے تحت حاصل اختیارات کو استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

صدرمرسی نے بائیس نومبر کو اپنے صوابدیدی اختیارات میں اضافے اور اپنے احکامات کو قانونی استثنیٰ دینے کے لیے یہ آئینی اعلامیہ جاری کیا تھا۔اس کے خلاف تب سے حزب اختلاف کے مختلف گروہ احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ صدر اس طرح مطلق العنان حکمران بن گئے ہیں۔اس دوران ملک کے نئے آئین کے مسودے کی عجلت میں تکمیل اور اس پر ریفرینڈم کے اعلان سےبھی صدر کی مخالفت میں اضافہ ہوا ہے۔

مصر کی طاقتور اور سب سے منظم سیاسی جماعت اخوان المسلمون سے ماضی میں تعلق رکھنے والے صدر کو حزب اختلاف کے علاوہ اپنے ساتھ شامل اقتدار احباب کی مخالفت کا بھی سامنا ہے اور ان کے مزید تین مشیر گذشتہ روز ان کا ساتھ چھوڑ گئے ہیں۔ صدارتی عملے میں شامل تین عہدے دار اس سے پہلے پہلے آئینی اعلامیے کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے بعد مستعفی ہوگئے تھے۔ان میں ایک عیسائی اور ایک خاتون بھی شامل تھی۔