.

مصری فوج کا مظاہرین کو صدارتی محل کا علاقہ چھوڑنے کا حکم

صدر مرسی کے حامیوں اور مخالفین کو ہٹانے کے لیے فوج طلب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کے ری پبلکن گارڈ نے دارالحکومت قاہرہ میں صدارتی محل کے ارد گرد موجود مظاہرین کو خبردار کیا ہے کہ وہ وہاں سے چلے جائیں اور علاقے کو بالکل خالی کردیں۔

صدارتی محل کے باہر گذشتہ دوروز سے جاری لڑائی کے بعد اب اس کے تحفظ کے لیے مصری فوج کو طلب کیا گیا ہے اور اس نے متحارب گروہوں کو جمعرات کی سہ پہر تین بجے تک علاقے خالی کرنے کا حکم دیا تھا۔صدر محمد مرسی کے حامیوں اور مخالفین نے آج بھی وہاں ایک دوسرے پر پتھراؤ کیا ہے۔ان کے درمیان بدھ کی سہ پہر لڑائی شروع ہوئی تھی۔فوجیوں نے وہاں آنے کے بعد دونوں فریقوں سے کہا کہ وہ لڑائی ختم کردیں اور صورت حال کو پُرامن بنانے میں تعاون کریں۔

برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا ہے کہ صدارتی محل کے باہر جس شاہراہ پر صدر مرسی کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان لڑائی ہورہی تھی،وہاں پر تین ٹینک بھیج دیے گئے ہیں۔ان کے علاوہ دو فوجی بکتر بند گاڑیاں بھی دیکھی گئی ہیں۔مصر کی سرکاری خبررساں ایجنسی مینا کی اطلاع کے مطابق متحارب دھڑوں کے درمیان گذشتہ روز شروع ہونے والی لڑائی میں پانچ افراد ہلاک اور ساڑھے تین سو سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔

صدارتی محل کے باہر لڑائی کے دوران دونوں دھڑوں سے تعلق رکھنے والے مشتعل افراد نے متعدد گاڑیوں کو بھی نذرآتش کردیا ہے۔حکومت نے پُرتشدد مظاہروں پر قابو پانے کے لیے پہلے پولیس کی اضافی نفری تعینات کی تھی لیکن اس کے باوجود لڑائی کا سلسلہ جاری رہا تھا اور متحارب گروہ ایک دوسرے پر وقفے وقفے سے فائرنگ کرتے رہے تھے۔اطلاعات کے مطابق حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے بہت سے مظاہرین وہاں سے چلے گئے تھے لیکن فوج کی آمد تک وہاں سیکڑوں کی تعداد میں ابھی موجود تھے۔

دارالحکومت قاہرہ سے باہر بھی صدر محمد مرسی کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں اور ساحلی شہر اسماعیلیہ اور سویز میں حکومت مخالف مظاہرین نے اخوان المسلمون کے دفاتر کو نذرآتش کردیا ہے۔