.

اپوزیشن رہنما کو پروگرام میں بلوانے کی اجازت نہ ملنے پر اینکر کا لائیو استعفیٰ

'سی بی سی' کا فیصلہ حکومتی دباؤ کا نتیجہ ہے: الصباحی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری آئینی اور سیاسی تناؤ نے ملک کے ابلاغی حلقوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ صدر ڈاکٹر محمد مرسی کےخلاف کفن پوش خاتون صحافی کے لائیو احتجاج کے بعد ایک دوسرے صحافی نے بھی ٹی وی پر لائیو پروگرام میں ادارے کی انتظامیہ کے رویے کے خلاف بطور احتجاج استعفیٰ پیش کر دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مصرکے ایک نجی ٹی وی چینل’’ سی بی سی‘‘ سے وابستہ صحافی خیری رمضان نے صدر محمد مرسی کے جمعرات کی شام قوم سے خطاب کے بعد ردعمل کے لیے اپنے پرو گرام میں شکست خوردہ صدارتی امیدوار حمدین الصباحی کو مدعو کرنے کے لیے چیئرمین سے اجازت مانگی۔ ٹی وی کے چیئرمین انجینئیر محمد امین نے حمدین الصباحی کو لائیو پروگرام میں بٹھانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ بعد ازاں خیری رمضان نے اپنے لائیو شو میں انتظامیہ کے خلاف احتجاجاً استعفے کا اعلان کر دیا۔

صحافی خیری رمضان کے ایک مقرب ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ خیری اپنے پروگرام ’’مُمکن‘‘ میں حمدین الصباحی کو مدعو کرنا چاہتے تھے تاہم ٹی وی کے چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹر نے اس کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ خیری رمضان نے اپنی جانب سے حمدین الصباحی کو پروگرام میں مدعو کر لیا تھا جس پر انہوں نے نہ صرف حامی بھری بلکہ وہ ٹٰی کے دفتر بھی پہنچ کر آدھ گھنٹہ انتظار کرتے رہے۔ اس دوران ٹی وی کے چیئرمین کو ان کی آمد کے بارے میں بتایا گیا تو انہوں نے الصباحی کو لائیو پروگرام میں بٹھانے سے روک دیا جس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے میزبان نے لائیو پروگرام میں استعفیٰ دینے کا اعلان کیا۔

۔

الصباحی کی صدارتی خطاب پر تنقید

ادھر شکست خورہ امیدوار حمدین الصباحی نے صدر ڈاکٹر محمد مرسی کےقوم سے خطاب کو مسترد کر دیا ہے۔ اپنے ایک بیان میں صدر کی تقریر پر ردعمل میں مسٹر صباحی کا کہنا تھا کہ صدر ملک میں جمہوریت کے نمائشی دعوے کر رہے ہیں جن کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ صدارتی فرامین کے خلاف احتجاج جاری رکھیں گے۔

’’سی بی سی‘‘ ٹی وی کی جانب سے برتے جانے والے ’نا مناسب‘ رویے اور صحافی خیری رمضان کے استعفے کے بارے میں حمدین الصباحی نے افسوس کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خیری کا استعفیٰ ہی صدر محمد مرسی کے ملک میں جمہوریت اور آزادی اظہار رائے کے کھوکھلے دعوؤں کی قلعی کھولنے کے لیے کافی ہے۔ اس واقعے کے بعد کسی شک و شبے کی گنجائش باقی نہیں رہی کہ ملک میں جمہوریت نہیں بلکہ فرد واحد کی حکمرانی چل رہی ہے۔ سابق صدارتی امیدوار نے بتایا کہ نجی ٹی وی کے پروگرام میں مجھے بیٹھنے سے روکنے کا فیصلہ اوپر سے آیا ہے۔ اس کا ٹی وی کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں