.

بشار الاسد کے اقتدار کے دن گنے جا چکے ہیں امریکی سفیر

دمشق کے وسط میں گھمسان کی لڑائی، جیش الحر کی پیشقدمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شام میں حکومت مخالف جنگجوؤں اور سرکاری فوج کے درمیان دارالحکومت دمشق کے وسط میں کئی مقامات پر خون ریز لڑائی کی اطلاعات ہیں۔ لڑائی کی شدت کے جلو میں دمشق میں تعینات امریکی سفیر رابرٹ فورڈ کا کہنا ہے کہ بشار الاسد کے اقتدار کے دن گنے جا چکے ہیں۔ جنگ کے دمشق میں صدارتی محلات کے قریب پہنچ جانے کے بعد اب حالات بشار الاسد اور ان کی فوج کے ہاتھ سے تیزی سے نکلتے جا رہے ہیں۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امریکی سفیر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ شامی اپوزیشن اتحاد نے بشار الاسد کی رخصتی کے بعد عبوری حکومت کے قیام کے لیے اہم تجاویز دی ہیں۔ امریکا نے ان تجاویز کی حمایت کی ہے۔

ادھر باغیوں کی ملٹری کونسل کے شعبہ اطلاعات کی جانب سے جاری خبروں میں بتایا گیا ہے کہ پچھلے چوبیس گھنٹوں سے دمشق کے وسط میں العباسیین کالونی اور شاہراہ بغداد پر دونوں طرف سے گھمسان کی لڑائی جاری ہے۔ حملوں میں دونوں طرف سے بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ فائرنگ میں متعدد افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں تاہم محاذ جنگ کی طرف سے ہلاکتوں کی کوئی مصدقہ تفصیلات سامنے نہیں آسکی ہیں۔

جیش الحر کے ذرائع کا کہنا ہے کہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب دمشق میں ملٹری کالج، القابون، البرزوہ اور کفر سوسہ کے مقامات پر فریقین نے ایک دوسرے کے ٹھکانوں پر شدید گولہ باری کی ہے۔ انہی علاقوں میں جیش الحر پیش قدمی کر رہے ہیں اور سرکاری فوج کو پسپائی کا سامنا ہے۔

درایں اثناء شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نگاہ رکھنے والے ادارے’’ہیومن رائیٹس نیٹ ورک‘‘ کے مطابق جمعرات کے روز سرکاری فوج کی گولہ باری سے دمشق اور اس کے مضافات میں کم سے کم 78 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ مہلوکین میں بیشتر عام شہری شامل ہیں۔

انقلابی رابطہ کمیٹیوں کی اطلاعات کے مطابق جیش الحر نے رات گئے دمشق کے مضافاتی علاقے الغوطہ کے مقام پر سرکاری فوج کے ایک اڈے پر حملہ کرکے کئی ٹینک اور بھاری اسلحہ قبضے میں لے لیا۔ فوجی کیمپ پرحملے میں کئی سرکاری فوجی ہلاک اور گرفتار بھی ہوئے ہیں۔ قبضے میں لیے گئے ٹینکوں میں کئی روسی ساختہ طیارہ شکن توپوں سے لیس ٹینک بھی شامل ہیں۔