.

جمہوریت میں اکثریت کے فیصلے اقلیت کو ماننا پڑتے ہیں مرسی

سیاسی جماعتوں کو ہفتے کے روز مذاکرات کی دعوت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کے صدر ڈاکٹر محمد مرسی نے کہا ہے کہ اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہئے۔ جمہوریت میں اقلیت ہی اکثریت کے فیصلے تسلیم کیا کرتی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب قوم سے اپنے براہ راست خطاب میں کیا۔ انہوں نے تمام قومی سیاسی جماعتوں اور انقلابی نوجوانوں کو ہفتے کے روز ایوان صدر میں مذاکرات کی بھی دعوت دی تاکہ کسی متفقہ نتیجے پر پہنچا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ متعدد تجویز پر تبادلہ خیال کیا جا سکتا ہے۔



مجلس شوریٰ اور انتخاب سے متعلق قانون، ریفرینڈم کے نتیجے سے بے پروا ہو کر اس کے بعد کا روڈ میپ جیسے امور ہفتے کی ملاقات میں زیر بحث لائے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکمت اور سکون سے ہی درست فیصلے کئے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے پوچھا کیا اکثریت کی رائے کے سامنے اقلیت کا ہتھیار ڈالنا جمہوریت نہیں ہےَ؟

صدر مرسی نے کہا کہ وہ پیڑول بمبوں اور اسلحے کے زور پر ملک میں قتل مقاتلے کی اجازت نہیں دے سکتے، تاہم پرامن اظہار رائے کا وہ احترام کرتے ہیں۔ "میں قانون ساز اسمبلی کی بساط لپیٹنے کی اپیلوں کی بھی اجازت نہیں دوں گا۔ اس وقت ملک کی سلامتی اور استحکام کو شدید خطرات لاحق ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں کئے جانے والے دستوری اعلانات کو تحفظ دینے سے عدلیہ کے حقوق پر قدغن لگی اور نہ ہی ان کے ذریعے شہریوں کو قوانین چیلنج کرنے سے روکا جا سکتا ہے۔

صدر مرسی نے یہ بات زور دیکر کہی کہ ریاست ریفرینڈم کو اعلان کردہ شیڈول کے مطابق ضرور منعقد کرائے گی۔ اگر عوام ریفرینڈم میں میرے اعلان کردہ دستوری فیصلوں کے خلاف ووٹ دیتی ہے تو ایسے میں نئی قانون ساز اسمبلی کی تشکیل کا اعلان کر دوں گا۔ دستور پر ریفرینڈم کے ساتھ ہی دستوری اعلان ختم ہو جائے گا۔ عوامی اصرار کی صورت میں دستور کی شق چھے پر نظرثانی کی جا سکتی ہے۔

العربیہ ٹی وی کے میدان تحریر میں موجود نامہ نگار کے مطابق خطاب ختم ہوتے ہی میدان تحریر میں احتجاجی دھرنا دینے والے مظاہرین نے صدر مرسی کے استعفی کا مطالبہ دہرانا شروع کر دیا۔

پیپلز اسمبلی کے سابق رکن ابو العز الحریری نے اپوزیشن کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی فورسز دستوری اعلان کو منسوخ کرنے کے دعوے پر قائم ہیں۔ الحریری کے بہ قول صدر مرسی سے مذاکرات کا ڈول ڈالنے والے انقلاب اور ملک کے خیانت کار ہوں گے۔ انہوں نے صدر مرسی کی جانب سے مذاکرات کی دعوت کو مزید وقت حاصل کرنے کی چال قرار دیتے ہوئے کہا انہوں نے ملک کے تمام ادارے اخوان المسلمون کے مرشد عام کے ہاتھ گروی رکھ چھوڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کسی قیمت پر ریفرینڈم کی نگرانی نہیں کرے گی۔

صدر مرسی کے خطاب کے بعد مقطم کے علاقے میں اخوان المسلمون کے دفتر کے باہر تقریباً تین ہزار مظاہرین نے حکمران جماعت کے مرکزی دفتر کو آگ لگانے کی کوشش کی۔ مظاہرین نے دفتر کے شیشے توڑ ڈالے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو قریب آنے سے روکنے کی کوشش کی تو مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے سیکیورٹی اداروں نے اشک آور گیس کے شیل فائر کئے۔