.

فلسطین کی مبصر حیثیت کے باوجود محمود عباس مضبوط اتحادی ہیں پیریز

ابو مازن کو یو این نہ جانے کا مشورہ دیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اسرائیلی صدر شمعون پیریز کا کہنا ہے کہ فلسطین کو اقوام متحدہ میں غیر رکن مبصر کا درجہ ملنے کے باوجود وہ فلسطینیوں سے امن بات چیت آگے بڑھانے کے حوالے سے مایوس نہیں۔ فلسطین سے متعلق 'یو این' اقدام کے باوجود وہ اپنے ہم منصب محمود عباس کو خطے میں قیام امن کے لئے ایک مضبوط اتحادی سمجھتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار اسرائیلی صدر نے 'اے ایف پی' کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں نے ذاتی طور پر ابو مازن کو فلسطین کا معاملہ جنرل اسمبلی میں لے جانے سے منع کیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ وقت فلسطین کو اقوام متحدہ میں مبصر رکن کا درجہ دینے کے لیے موزوں نہیں ہے۔ تاہم اب جو ہونا تھا وہ ہو چکا ہے۔ میں اب بھی فلسطینی انتظامیہ کے سربراہ سے مایوس نہیں ہوں اور انہیں قیام امن کے لیے ایک مضبوط اتحادی کے طورپر دیکھتا ہوں اور ان کا بھرپور احترام کرتا ہوں‘‘۔

اسرائیلی صدر نے یہ بات تسلیم کی کہ اقوام متحدہ میں مخالفت کے امکانات کے باوجود صدر محمود عباس نے جرات کا مظاہرہ کیا اور امریکا اور اسرائیل جیسے دو اہم اتحادیوں کی مخالفت کی پرواہ تک نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل بھی خطے میں جنگ کے حامی نہیں بلکہ امن چاہتے ہیں اور تمام تنازعات کاحل اقوام متحدہ کے بجائے باہمی بات چیت کے ذریعے تلاش کرنے کے خواہاں ہیں۔

صدر پیریز نے اپنے فلسطینی ہم منصب محمود عباس کی جانب سے فلسطین کو مبصر رکنیت کا درجہ دلوانے کی درخواست پر تنقید کی وہیں ان کی دہشت گردی کےخلاف کوششوں کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں فلسطین کو قبل از وقت اقوام متحدہ میں مبصر رکن کا درجہ دلوانے کی عباس کی کوششوں پر تشویش ہے لیکن ہم اس بات پر مطمئن ہیں کہ انہوں نے دہشت گردی کی مذمت اور امن بات چیت کی حمایت بھی کی ہے۔

اسرائیلی صدر کی جانب سے بار بار دہشت گردی کے الفاظ کا استعمال فلسطینیوں کی اپنے حقوق کے لیے جاری مسلح جدوجہد کی جانب اشارہ تھا کیونکہ اسرائیل اپنے خلاف مسلح مزاحمت کو دہشت گردی قرار دیتا ہے۔ صدر محمود عباس بھی اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں مسلح مزاحمت کی مخالفت کرتے ہوئے اسے دہشت گردانہ کارروائیوں کے مماثل قرار دے چکے ہیں۔

اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے اسرائیلی صدر نے اقوام متحدہ، امریکا، یورپی یونین اور روس پر مشتمل گروپ چار پر فلسطین اسرائیل بات چیت کی بحالی کے لیے فوری مداخلت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں خود سے یہ سوال پوچھنا چاہیے کہ اب تک ہم کیا نہیں کرسکے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ گروپ چار مذاکرات کی بحالی اور اس کی تیاری کے لیے جلد اپنا کام شروع کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ گروپ چار نے مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے قابل قدر مساعی شروع کی تھیں لیکن مختلف اسباب کی بناء پر انہیں معطل کر دیا گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم مسئلے کا ایک باب آج بند کر چکے ہیں اور دوسرا باب فوری کھولنے کی ضرورت ہے اور وہ فلسطین ۔ اسرائیل امن بات چیت کی بحالی ہے۔