.

مصر حزب اختلاف نے صدر مرسی کی مذاکرات کی پیش کش مسترد کر دی

نمازجمعہ کے بعد صدارتی محل کی جانب احتجاجی ریلیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کی حزب اختلاف نے صدر محمد مرسی کی جانب سے بحران کے حل کے لیے مذاکرات کی پیش کش مسترد کر دی ہے۔



قومی محاذ آزادی نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''اس نے کل ہفتے کے روز ہونے والے صدر کے مجوزہ مذاکرات میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے''۔ العربیہ کے نمائندے کی اطلاع کے مطابق صدر مرسی کے مخالفین نے ان کے اختیارات میں اضافے کے خلاف قاہرہ میں احتجاجی مظاہرے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

حکومت مخالف جماعتوں اور گروپوں پر مشتمل رابطہ کمیٹی نے نمازجمعہ کے بعد صدارتی محل کی جانب سترہ ریلیاں نکالنے کی اپیل کی تھی اور ان کی تیاری کی جارہی تھی۔رابطہ کمیٹی نے کہا ہے کہ اگر صدر مرسی اپنے آئینی اعلامیے سے دستبردار نہیں ہوتے تو نماز جمعہ کے بعد مظاہرے حتمی الٹی میٹم ہوں گے۔

حزب اختلاف میں شامل دستور پارٹی، مصر پاپولر فرنٹ ،انقلابی سوشلسٹ تحریک ،چھے اپریل تحریک ،مصری لبرل پارٹی اور سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ ایک ملین مارچ کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کررہی ہیں اور اسے انھوں نے صدر محمد مرسی کے لیے ریڈ کارڈ قرار دیا ہے۔

مصری صدر نے رات قوم سے خطاب میں اپنے اختیارات میں کمی اور آئین کے مجوزہ مسودے میں ترامیم سے متعلق حزب اختلاف کے مطالبے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔اس پر حزب اختلاف نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور آج صبح سے ہی حزب اختلاف کے حامی میدان التحریر میں جمع ہونا شروع ہو گئے تھے۔