.

شام جانے والے ایرانی جہاز غلط شناخت ظاہر کر رہے ہیں

عالمی مانیٹرنگ کو گمراہ کرنے والے سگنل کی ترسیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
ایرانی تیل بردار بحری جہاز بین الاقوامی پابندیوں کے نفاذ کو یقینی بنانے کی خاطر نگرانی پر مامورمصنوعی سیاروں کو گمراہ کرنے کے لئے غلط سگنل بھیج رہے ہیں تاکہ تہران کے خلاف پابندیوں کو غیر مؤثر کیا جا سکے۔ ایسی دانستہ کارروائیوں سے تہران، شام کی جانب اپنے جہازوں کی نقل و حرکت کو بھی چھپا رہا ہے کیونکہ شام پر بھی ایران کی طرح عالمی برادری نے پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

ایران کے خلاف پابندیوں سے اسے اپنا خام تیل فروخت کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تہران کے ملکیتی تیل بردار جہازوں کو چین، بھارت اور جنوبی کوریہ جیسے ایشیائی سرمایہ کاروں سے انشورنس اور سرمایہ کی سہولیات نہیں مل رہی ہیں۔

اسی طرح مغربی ملکوں کی جانب سے شام پر عائد پابندیوں سے دمشق بھی عالمی سطح پر الگ الگ رہ رہا ہے اور اسے بھی اپنا تیل برآمد کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ شام پر اسلحہ اور ایندھن برآمد کرنے پر بھی پابندی ہے۔ خطے کے دونوں اہم حلیف ملک پیڑول اور ڈیزل کے باہمی تبادلے سے درپیش کمی کو پورا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مغربی ممالک کے میڈیا میں شائع ہونے والے رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ایران کے تیل بردار سرکاری جہازوں میں متعدد نے اپنے رجسٹرڈ نام تبدیل کر لئے ہیں تاکہ عالمی پابندیوں سے بچا جا سکے۔

سمندری سفر پر روانہ ہونے سے پہلے جہازوں کو کھلے سمندر میں موجود دیگر جہازوں اور بندرگاہوں تک منصوعی سیاروں کے توسط سے اپنے نام اور شناخت نوٹ کروانا ہوتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ ایک ایرانی جہاز ایشیائی پانیوں میں سے گزر رہا تھا کہ اس نے سیٹلائیٹ کو ویسے ہی سگنل جاری کئے جیسے پہلے ہی ایک جہاز کے جانب سے سیٹلائیٹ کے ریکارڈ میں موجود تھے۔ رپورٹس کے مطابق ایران کے تین دیگر جہازوں نے شامی جہازوں کے جعلی شناختی دستاویز استعمال کیں۔ یہ شناخت شام، لیبیا اور ترکی کے درمیان سفر کے دوران سیٹلائیٹ پر ریکارڈ کرائی گئیں۔

ذرائع کے مطابق تنزانیہ کے علم بردار جہازوں پر شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے تاہم تنزانیہ کے حکام اس سلسلے میں معلومات سے اغماض برت رہے ہیں۔