.

صدر مرسی اور 5 مشائخ مجھ پر تشدد کے ذمہ دار ہیں سابق رکن پارلیمنٹ

'مجھ پر مذہب تبدیلی کا الزام لگایا گیا'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصری پارلیمنٹ [پیپلز اسمبلی] کے سابق رکن محمد ابو حامد نے الزام لگایا ہے کہ صدر جمہوریہ ڈاکٹر محمد مرسی اور ان کی جماعت سے تعلق رکھنے والی سرکردہ دینی شخصیات انہیں جسمانی ایذا پہنچانے کی ذمہ دار ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق ابو حامد کو نامعلوم افراد نے تشدد کا بنایا تھا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ ایک ویڈیو کلپ میں سابق رکن پارلیمنٹ اسپتال کے بستر پر دراز ہیں اور ان کے قریب مصری پولیس کی وردی میں ملبوس شخص بھی موجود ہے۔

جمعہ کے روز 'نامعلوم' افراد کے تشدد کا نشانہ بننے کے بعد ابو حامد نے پولیس کو درج کرائی گئی ایف آئی آر میں خود پر تشدد کا الزام صدر محمد مرسی، اخوان المسلمون کے مرشد عام ڈاکٹر محمد بدیع، صحافی عبداللہ بدر اور شیخ محمد عبدالمقصود پر لگایا ہے۔

ابو حامد نے الدعوہ السلفیہ کے ڈپٹی چیئرمین یاسر برھامی کو بھی ایف آئی آر میں نامزد کیا ہے۔

ویڈیو کے مطابق تفتیشی افسر ابو حامد سے استفسار کرتے ہیں کہ آپ خود پر تشدد کا ذمہ دار کن لوگوں کو سمجھتے ہیں تو انہوں نے مذکورہ قائدین کا نام لیکر انہیں خود پر تشدد کا ذمہ دار قرار دیا۔ بہ قول ابو حامد ان لوگوں نے میرا خون بہایا اور مجھے اسلام چھوڑ کر عیسائی مذہب اختیار کرنے کا ذمہ دار قرار دیا۔