.

قاہرہ مشاورتی اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں کی اکثریت غیر حاضر

صدر مرسی اجلاس سے خطاب کے بعد دفتر روانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصری دارلحکومت قاہرہ سے العربیہ کی نامہ نگار نے اپنے مراسلے میں بتایا ہے کہ صدر محمد مرسی نے ہفتے کے روز قصر صدارت میں مختلف سیاسی جماعتوں کی قیادت، قانونی ماہرین اور رائے عامہ سے تعلق رکھنے افراد کے نمائندہ اجلاس سے خطاب کیا اور شرکاء کو ریفرینڈم کے حوالے سے اپنے نقطہ نظر سے آگاہ کیا۔

خطاب کے بعد صدر مرسی اپنے دفتر روانہ ہو گئے جبکہ بعد میں جاری اجلاس کی صدارت نائب صدر محمود مکی نے کی۔ اجلاس میں اپوزیشن کے ملک بچاؤ فرنٹ کے رہنما عمرو موسی، حمدین صباحی اور ڈاکٹر محمد البرادعی شریک نہیں ہوئے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی 'مینا' کے مطابق اجلاس میں شرکت کے لئے سیاسی جماعتوں، قومی شخصیات اور سول سوسائٹی کے سرگرم نمائندہ افراد صبح سے صدارتی محل آنا شروع ہو گئے تھے۔

نائب صدر محمود مکی کے مطابق اگر سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے ہو گیا تو صدر مرسی اپنے اختیارات میں اضافے سے متعلق ریفرنیڈم ملتوی کر سکتے ہیں تاکہ موجودہ سیاسی بحران حل ہو سکے۔

مشاورتی اجلاس میں شرکت کرنے والوں میں نمایاں نام ڈاکٹر محمد سلیم العوا، ایڈووکیٹ محمود الخضیری، ابو العلا ماضی، عصام سلطان، عمرو خالد، فھمی ھویدی، جمال جبریل، منتصر الزیات، ابراھیم المعلم اور غد الثورہ [کل کا انقلاب] پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر ایمن نور شامل تھے۔

ادھر دوسری جانب اجلاس کے دوران بھی صدارتی محل کے باہر مظاہرین صدر مرسی کے اعلانات کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرتے رہے۔