.

نائب مرشد عام کا صدر مرسی کی حمایت میں محاذ بنانے کا اعلان

'ہماری عوامی مقبولیت کھلا راز ہے'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کی سرکردہ دینی سیاسی جماعت کے نائب چیئرمین خیرت الشاطر نے کہا ہے کہ منتخب پارلیمنٹ کی تحلیل کا مقصد صدر کے کام میں رکاوٹ ڈال کر انہیں اقتدار سے الگ کرنا تھا۔ ان دنوں ملک داخلی صورتحال میں بڑھتی ہوئی خرابی کے باعث اقتصادی بدحالی کا شکار ہو رہا ہے۔

ان خیالات کا اظہار خیرت الشاطر نے ہفتے کے روز قاہرہ میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے پارلیمنٹ کی حمایت کے لئے ایک محاذ تشکیل دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے مصری انقلاب میں شامل بعض پر الزام لگایا کہ وہ مختلف حیلوں بہانوں سے پیپلز اسمبلی کی بساط لپیٹنے کے لئے کوشاں ہیں۔ ان میں حکمران جماعت اخوان المسلمون کے دفاتر کو نذر آتش کرنا اس بات کا مظہر ہے کہ حکومت جانے والی ہے۔

اخوان المسلمون کی دوسری اہم شخصیت نے بین الاقوامی اور بعض علاقائی طاقتوں پر مصر میں جمہوریت کے تجربے کو ناکام بنانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ ملک کا نظام تاراج کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے نام لئے بغیر کہا کہ ایک سیاسی شخصیت نے امریکی اخبار کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن حلقوں اور حسنی مبارک کی باقیات کے درمیان اخوان المسلموں کی حکومت اور پارلیمنٹ کی تحلیل کے لئے مضبوط تعلق موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر مرسی سابق حکومت کی باقیات سے سیاسی کھینچا تانی میں نہیں پڑنا چاہتے۔ اپوزیشن کے مظاہروں سے ان کی عوامی حمایت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اب اندازہ ہو چلا ہے کہ کسے عوامی حمایت حاصل ہے۔

اخوان کے رہنما نے کہا کہ وہ پارلیمنٹ کا دفاع جاری رکھیں گے اور کبھی انقلاب کے ثمرات پر نقب لگانے کی کوششوں کو قبول نہیں کریں گے۔ ہم عوام کی اکثریت ہیں اور حقیقی سٹریٹ پاور ہمارے پاس ہے۔

انہوں نے نیوز کانفرنس کا اختتام کرتے ہوئے کا کہ سیاسی مخالفین نے پارٹی پراپرٹی کو نذر آتش کیا، ہمیں تمام سازشوں کا علم ہے۔ ہم تمام فتنوں سے محفوظ رہیں گے کیونکہ عیسائی قبطی اور اسلام پسند اس کے ملک کے حقیقی پارٹنر ہیں۔

ادھر اخوان المسلمون سمیت تیرہ دیگر جماعتوں پر مبنی الائنس نے پندرہ دسمبر کو دستوری ترامیم کے بارے میں ہونے والے ریفرینڈم کو ملتوی کر دیا۔