.

مصری صدر نے اختیارات میں اضافہ واپس لے لیا، ریفرینڈم برقرار

اپوزیشن کا نئے آئینی مسودے پر ریفرینڈم منسوخ کرانے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصری صدر ڈاکٹر محمد مرسی نے اپنے اختیارات میں گزشتہ ماہ کئے گئے اضافے سے متعلق فرامین منسوخ کر دیئے ہیں تاہم ایک سرکاری عہدیدار نے نیوز کانفرنس کو بتایا کہ ان فرامین کے اثرات برقرار رہیں گے۔

اپوزیشن کا مطالبہ ہے کہ فرامین کی واپسی سے بحران ختم نہیں ہو گا بلکہ مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لئے صدر مرسی کو اسمبلی میں پیش کردہ نئے آئینی مسودے کے بارے میں ریفرینڈم کی کال بھی واپس لینا ہو گی۔

اسلام پسند سیاسی رہنما ڈاکٹر سلیم العوا نے صدر مرسی اور سیاسی رہنماؤں کی ہفتے کے روز ہونے والی ملاقات کے بعد بتایا کہ پندرہ دسمبر کا ریفرینڈم پروگرام کے مطابق منعقد ہو گا۔

مصر میں گزشتہ دو ہفتوں سے جن دو اعلانات کی واپسی کے لئے حکومت پر دباؤ بڑھانے کی خاطر عوام سڑکوں پر تھے ان میں ایک معاملہ نئے آئینی مسودے کے بارے میں ریفرینڈم جبکہ دوسرا صدر مرسی کے اختیارات میں اضافے کے بارے میں جاری کردہ صدارتی فرامین تھے۔

العربیہ سے بات کرتے ہوئے مصری جرنلسٹ سنڈیکیٹ کے رکن جمال فھمی نے کہا کہ صدر مرسی سے ملاقات کرنے والوں نے ذاتی حیثیت میں اجلاس منعقد کیا۔ بہ قول مسٹر فھمی صدارتی اختیارات میں اضافہ کا تعلق بنیادی مسئلے سے نہیں بلکہ اصل قضیہ پیپلز اسمبلی میں پیش کردہ نئے آئینی مسودے کا ہے جس کے بارے میں ریفرینڈم کرایا جا رہا ہے۔

دستور پارٹی کے رکن اور سرگرم سیاسی کارکن جارج اسحاق نے العربیہ کو بتایا مرسی کے اعلان میں کوئی نئی چیز سامنے نہیں آئی۔ عوامی مطالبات بہت زیادہ ہیں اور صدارتی فرامین کی واپسی سے یہ مطالبات پورے نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہا ہمیں حکومت پر دباؤ بڑھانے کے نئے طریقوں پر غور کرنا ہو گا۔

نیشنل سالویشن فرنٹ نے صدر مرسی کی جانب سے اپنے پہلے فرامین کی منسوخی کو لیپا پوتی قرار دیکر مسترد کر دیا ہے۔ چھے اپریل موومنٹ نے بھی صدر مرسی کے تازہ اعلان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں دستور کے بارے میں بات نہیں کی گئی کیونکہ اس معاملے پر پندرہ دسمبر کو ریفرینڈم جوں کا توں برقرار رکھا گیا ہے۔ تحریک کے ترجمان طارق الخولی نے العربیہ کو بتایا کہ ہمیں ایسا دستور چاہئے کہ جو تمام مصریوں کی نمائندگی کرے نہ کہ صرف صدر اور ان کے حاشیہ برداروں کی۔

صدر مرسی کے 22 نومبر کے فرامین نے ان کے تمام فیصلوں کو قانونی چارہ جوئی سے مستثنی قرار دے دیا تھا۔ اپوزیشن حلقے اسے آمرانہ قرار دیکر اس کی شدید مخالفت کرتے چلے آ رہے ہیں۔

اپوزیشن نے بحران کے حل کی خاطر صدر مرسی سے مذاکرات کے لئے 15 دسمبر کے ریفرینڈم کی منسوخی کا مطالبہ کیا ہے۔ سیاسی بحران کے دوران ہونے والی جھڑپوں میں ابتک چھے افراد جاں بحق اور متعدد دوسرے زخمی ہوئے ہیں۔

مصر کی طاقتور فوج نے ہفتے کے روز اپوزیشن اور حکومت کے درمیان مذاکرات پر زور دیتے ہوئی خبردار کیا تھا وہ حالات کو مزید ابتری سے بچانے کے لئے کوئی راست اقدام کر سکتی ہے۔