.

مصر اپوزیشن لیڈروں کے خلاف غداری کی تحقیقات کا حکم

عمرو موسیٰ، البرادعی اور صباحی پر صدر مرسی کا تختہ الٹنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کے نئے پراسیکیوٹر جنرل طلعت عبداللہ نے حزب اختلاف کے لیڈروں اور سابق صدارتی امیدواروں عمرو موسیٰ ،محمد البرادعی اور حمدین صباحی کے خلاف غداری کے الزام میں دائر درخواست پر تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

مصری روزنامے الیوم کی رپورٹ کے مطابق درخواست میں مذکورہ تینوں لیڈروں پر صدر محمد مرسی کا تختہ الٹنے کی سازش میں ملوث ہونے، حکومت مخالف مظاہروں کو شہ دینے اور صدارتی محل پر حملے کے لیے مظاہرین کی حوصلہ افزائی کرنے کے الزامات عاید کیے گئے ہیں۔

دستور پارٹی کے بانی محمد البرادعی، کانفرنس پارٹی کے سربراہ عمرو موسیٰ اور پاپولر کرنٹ پارٹی کے سربراہ حمدین صباحی نے قاہرہ کے مشہور میدان التحریر میں حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے کارکنان کے دھرنے کی حمایت کا اظہار کیا تھا۔ ان کارکنان نے صدر محمد مرسی کے جاری کردہ آئینی اعلامیے کی تنسِیخ تک دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

ان تینوں سابق صدارتی امیدواروں اور وفد پارٹی کے لیڈر سید بداوی کے خلاف ایک وکیل حامد صادق نے درخواست دائر کی ہے اور اس میں انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان سرکردہ اپوزیشن لیڈروں نے اسرائیل کی سابق وزیر خارجہ زیپی لیونی سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات کا مقصد ملک میں جاری افراتفری کو ہوا دینا اور اس کو جھکنے پر مجبور کرنا تھا۔

مصر میں گذشتہ دو ہفتوں سے صدر مرسی کے بائیس نومبر کو جاری کردہ متنازعہ آئینی اعلامیے کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ اس کے تحت مصری صدر نے خود کو قانون سے ماورا قرار دے دیا تھا اور ان کے اقدامات کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا تھا لیکن ہفتے کے روز ملک کے سیاسی لیڈروں سے ملاقات کے بعد انھوں نے اپنا یہ اعلامیہ واپس لے لیا ہے۔ البتہ نئے آئین پر پندرہ دسمبر کو ہونے والے ریفرینڈم کو موخر کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

شکست خوردہ صدارتی امیدوار حمدین صباحی کے زیر قیادت بائیں بازو کے ایک گروپ نے ملک کے نئے آئین پر اتفاق رائے ہونے تک ریفرینڈم کو ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس گروپ کا کہنا ہے کہ جب شاہراہوں میں خون بہنے کا سلسلہ جاری رہتا ہے، اس وقت تک صدر مرسی سے کوئی مذاکرات نہیں ہو سکتے۔

لیکن صدر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ قانونی وجوہات کی بنا پر ریفرینڈم کو موخر نہیں کیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک میں قائدانہ کردار ادا کرنے والی ''چھے اپریل تحریک'' نے حکومت کے اس موقف کو مسترد کر دیا ہے اور ہفتے کے روز صدر مرسی کے سیاسی لیڈروں کے ساتھ مذاکرات کو قانون اور قانونی اعتباریت کے نام پر دھوکا قرار دیا ہے۔