.

مصر کے ایف 16 جنگی طیاروں کی قاہرہ پر نچلی پروازیں

حزب اختلاف اور اخوان کی اپنے حامیوں سے مظاہروں کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر میں جاری حالیہ سیاسی بحران کے دوران اتوار کو پہلی مرتبہ ایف سولہ جنگی طیاروں نے دارالحکومت قاہرہ کے وسطی علاقے پر نچلی پروازیں کی ہیں۔

مصر کے صدر محمد مرسی نے اپنے جاری کردہ متنازعہ آئینی اعلامیے کو گذشتہ روز واپس لے لیا تھا لیکن اس کے باوجود حزب اختلاف کے گروپوں نے ان کے خلاف احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے جبکہ فوج نے صدر مرسی کی حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کےلیے مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

فوج نے ہفتے کو ایک بیان جاری کیا تھا اور اس میں خبردار کیا تھا کہ'' ملک کو گہری کھائی میں لے جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی''۔ صدر کی جانب سے اپنے اختیارات سے دستبرداری کے بعد ان کے حامیوں اور حزب اختلاف دونوں نے ہی اتوار کو مظاہروں کی اپیل کی تھی۔

حزب اختلاف کے مختلف گروپوں پر مشتمل قومی محاذ آزادی نے میڈیا کے لیے جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ ''ہم تمام مصری نوجوانوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے مطالبات تسلیم ہونے تک قاہرہ کے تمام چوکوں میں دھرنے دیں''۔

محاذ نے صدر مرسی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بائیس نومبر کے اعلامیے اور نئے آئین کے مسودے پر پندرہ دسمبر کو ریفرینڈم کے انعقاد کو منسوخ کر دیں، منظم ملیشیاؤں کو کالعدم قرار دے دیں۔ متحارب گروہوں کے درمیان جھڑپوں کی تحقیقات کرائیں اور تشدد کے واقعات کی مذمت کریں۔ واضح رہے کہ بدھ کو صدر کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپوں میں سات افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہو گئے تھے۔

حزب اختلاف کے احتجاجی مظاہرے کے مقابلے میں اخوان المسلمون نے اتوار کو قاہرہ میں اپنے ہیڈکوارٹرز کے سامنے انسانی زنجیر بنانے کا اعلان کر رکھا ہے۔ گذشتہ روز صدر مرسی اور سیاسی لیڈروں کے درمیان مذاکرات کے بعد اخوان سے تعلق رکھنے والے ایک سیاست دان سلیم العوا نے بتایا تھا کہ ''اس لمحے آئینی اعلامیے کو تو منسوخ کردیا گیا ہے لیکن آئین پر ریفرینڈم طے شدہ پروگرام کے مطابق پندرہ دسمبر کو ہو گا''۔

انھوں نے مزید بتایا کہ اگر ریفرینڈم میں عوام نے نئے دستور کو مسترد کر دیا تو پھر منتخب نمائندے دستور کا نیا مسودہ ترتیب دیں گے اور پارلیمان کی منتخب کردہ موجودہ آئینی اسمبلی کی طرح کا کوئی ادارہ یہ کام نہیں کرے گا۔

مصری حزب اختلاف کی جانب سے نئے آئین کے مسودے پر بنیادی انسانی حقوق خاص طور پر خواتین کے حقوق کو تحفظ نہ دینے اور شرعی قوانین کی سخت تعبیر پر تنقید کی جا رہی ہے۔ حکومت مخالف بعض لیڈروں کا کہنا ہے کہ اس میں مصر کے سیکولر تشخص کو داغدار کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور نیا آئین ملک کے تمام عوام کی امنگوں کا آئینہ دار نہیں ہے۔