.

مصر ججز کلب آئین پر ریفرینڈم کی نگرانی کے لیے مشروط طور پر آمادہ

جج صاحبان اور عدالتوں کو تحفظ مہیا کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کے انتظامی ججز کے کلب نے پندرہ دسمبر کو نئے آئین پر ہونے والے ریفرینڈم کی نگرانی کے لیے مشروط طور پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔

ججز کلب کے سربراہ حامدی یاسین نے سوموار کو قاہرہ میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران ریفرینڈم کی نگرانی کا اعلان کیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پولنگ کمیٹیوں اور سرکاری عمارتوں کو تحفظ مہیا کرے۔ خاص طور پر ریفرینڈم کی نگرانی کرنے والی اعلیٰ کمیٹی کے ہیڈکوارٹرز کا تحفظ کرے۔

حامدی یاسین نے کہا کہ ''حکومت دستوری عدالت عظمیٰ کے باہر صدر محمد مرسی کے حامیوں کے دھرنے کو ختم کرانے کے لیے بھی اقدامات کرے''۔ واضح رہے کہ دو دسمبر سے صدر مرسی کے حامیوں نے دستوری عدالت عظمیٰ کا محاصرہ کر رکھا ہے۔ انھیں یہ خدشہ لاحق ہے کہ آئینی عدالت عظمیٰ نیا دستور وضع کرنے والی اسمبلی یا پارلیمان کے ایوان بالا شوریٰ کونسل کو کالعدم قرار دینے کے احکامات جاری کر سکتی ہے۔

حامدی یاسین کا مزید کہنا تھا کہ ججوں کا بھی تحفظ کیا جانا چاہیے۔ان کے بہ قول اگر کسی جج کی پولیس اور ووٹروں کی جانب سے توہین کی جاتی ہے تو اسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ ریفرینڈم کی نگرانی سے دستبردار ہوجائے۔

مصر کے ججوں نے اس سے پہلے صدر محمد مرسی کے بائیس نومبر کو جاری کردہ متنازعہ اعلامیہ کے اجراء کے بعد ریفرینڈم کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا تھا۔ ججز کلب کے صدر کے اس اعلان سے قبل مصر کے صدر محمد مرسی نے فوج کو نئے دستور پر پندرہ دسمبر کو ریفرینڈم کے انعقاد تک گڑ بڑ میں ملوث شہریوں کو گرفتار کرنے کے اختیارات سونپ دیے ہیں اور اسے ریفرینڈم کے نتائج کے اعلان تک پولیس کے ساتھ تعاون کرنے کا حکم دیا ہے۔

واضح رہے کہ مصری ججز کلب کے چئیرمین کونسلر احمد الزند نے حزب اختلاف کی حمایت میں گذشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ صدر محمد مرسی نے اپنے جاری کردہ آئینی اعلامیے کو منسوخ نہ کیا تو جج پندرہ دسمبر کو ہونے والے ریفرینڈم کا بائیکاٹ کر دیں گے۔صدر نے ہفتے کے روز اس آئینی اعلامیے کو واپس لینے کا اعلان کر دیا تھا۔

احمد الزند نے ججوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ''شفاف'' ہیں اور موجودہ بحران میں ان کے کوئی ذاتی مفادات نہیں۔ ان کے بہ قول موجودہ بحران کو مسلط کیا گیا ہے۔ دوسری جانب اخوان المسلمون اور دوسری اسلامی جماعتوں کا کہنا ہے کہ ''جج آزاد نہیں ہیں اور وہ سابق حکومت کی باقیات کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں''۔