.

مصر فوج کو شہریوں کی گرفتاری کے اختیارات سونپ دیے گئے

اپوزیشن کی ریلیوں سے قبل صدر مرسی کا نیا حکم نامہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کے صدر محمد مرسی نے فوج کو نئے دستور پر پندرہ دسمبر کو ریفرینڈم کے انعقاد تک گڑ بڑ میں ملوث شہریوں کو گرفتار کرنے کے اختیارات سونپ دیے ہیں اور اسے ریفرینڈم کے نتائج کے اعلان تک پولیس کے ساتھ تعاون کرنے کا حکم دیا ہے۔

مصری صدر کا نیا حکم نامہ منگل سے نافذالعمل ہو گا اوراس کو سرکاری گزٹ میں ''قانون 107'' کے تحت شامل کیا جائے گا۔ اس کو نئے آئین کے مسودے پر ہونے والے ریفرینڈم پر متحارب سیاسی قوتوں کی احتجاجی ریلیوں سے ایک روز قبل جاری کیا گیا ہے۔

مصر کی طاقتور فوج خود کو غیر جانبدار رکھنے کی کوشش کررہی ہے۔اس نے ہفتے کے روز ایک بیان میں خبردار کیا تھا کہ ''وہ بحران کو بدتر ہونے کی اجازت نہیں دے گی۔ اس نے دونوں فریقوں پر زور دیا تھا کہ وہ مذاکرات کے ذریعے بحران کا کوئی حل نکالیں''۔

مصر کے صدر محمد مرسی نے اپنے جاری کردہ متنازعہ آئینی اعلامیے کو ہفتے کے روز واپس لے لیا تھا لیکن انھوں نے ریفرینڈم کو موخر کرنے سے متعلق حزب اختلاف کا مطالبہ تسلیم نہیں کیا تھا۔ حزب اختلاف کے مختلف گروپوں پر مشتمل قومی محاذ آزادی صدر مرسی سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ نئے آئین کے مسودے پر پندرہ دسمبر کو ہونے والے ریفرینڈم کو منسوخ کر دیں۔ اس نے یہ مطالبہ منظور ہونے تک حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کرنے کا اعلان کر رکھا ہے اور اس نے تمام مصری نوجوانوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے مطالبات تسلیم ہونے تک قاہرہ کے تمام چوکوں میں دھرنے دیں۔

محاذ کے ترجمان سامح آشور نے اتوار کو قاہرہ میں نیوز کانفرنس میں کہا کہ ''ہم نئے آئین کے مسودے کو تسلیم نہیں کرتے کیونکہ یہ مصری عوام کا نمائندہ نہیں ہے۔ اس پر ریفرینڈم سے تقسیم مزید بڑھے گی''۔

حزب اختلاف نے صدر مرسی کے حامیوں کے اس نقطہ نظر کو بھی مسترد کر دیا ہے کہ نئے دستور پر ریفرینڈم کو قانونی طور پر موخر نہیں کیا جا سکتا۔ عبوری آئینی اعلامیے کے مطابق نئے آئین کا مسودہ صدر کو پیش کیے جانے کے دو ہفتے کے بعد اس پر استصواب رائے کا انعقاد ضروری ہے۔

متحدہ محاذ کے ایک لیڈر منیر فخری کا کہنا ہے کہ دو ہفتے کی ڈیڈ لائن ریفرینڈم کے انتظامات کے لیے ہے۔اس لیے آئین پر ریفرینڈم کو کسی مسئلے کے بغیر ملتوی کیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب صدر مرسی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ مجوزہ آئین کو تسلیم کرنا یا مسترد کرنا عوام کا کام ہے۔

صدر مرسی کے معاونین یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر ریفرینڈم میں عوام نے نئے دستور کو مسترد کر دیا تو پھر منتخب نمائندے دستور کا نیا مسودہ ترتیب دیں گے اور پارلیمان کی منتخب کردہ موجودہ آئینی اسمبلی کی طرح کا کوئی ادارہ یہ کام نہیں کرے گا۔

مصری حزب اختلاف کی جانب سے نئے آئین کے مسودے پر بنیادی انسانی حقوق خاص طور پر خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کو تحفظ نہ دینے اور شرعی قوانین کی سخت تعبیر پر تنقید کی جا رہی ہے۔ حکومت مخالف بعض لیڈروں کا کہنا ہے کہ اس میں مصر کے سیکولر تشخص کو داغ دار کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور نیا آئین ملک کے تمام عوام کی امنگوں کا آئینہ دار نہیں ہے۔