.

اسرائیل سے یورپی رویے نے ہولوکاسٹ کی یاد تازہ کر دی لائبرمین

یورپ نے اسرائیل کی تباہی سے متعلق بیان نظر انداز کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
انتہا پسند یہودی جب خود فلسطینیوں پر بم برسا رہے ہوں یا ان کی سر زمین پر قابض ہو رہے ہوں تو انھیں جرمنی کے مرد آہن ہٹلر کے ہاتھوں یہود کے مبینہ قتل عام کی یاد ہرگز بھی نہیں آتی لیکن جب ان کے خلاف فلسطینیوں کی جانب سے کوئی بیان آ جائے تو انھیں ہولوکاسٹ کی یاد ستانے لگتی ہے اور ان کے زیر اثر مغربی میڈیا بھی اس طرح کے کسی معاملے کو خوب اچھالتا ہے۔

اس مظہر کی نمایاں مثال منگل کو انتہا پسند صہیونی وزیر خارجہ ایویگڈور لائبرمین کے تازہ بھاشن کی صورت میں سامنے آئی ہے۔ اس میں انھوں نے یورپ پر کڑی تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ اس کا صہیونی ریاست سے سلوک کا ہولوکاسٹ کے دور کی پالیسیوں سے موازنہ کیا جا سکتا ہے۔

لائبرمین نے واویلا کرتے ہوئے کہا کہ یورپ نے حماس کے سربراہ خالد مشعل کی اسی ہفتے تقریر سے آنکھیں موند لی ہیں۔ اس میں انھوں نے کہا تھا کہ ''فلسطینی اپنی سر زمین کے ایک انچ سے بھی دستبردار نہیں ہوں گے''۔ یہ فلسطینیوں کا تاریخی موقف ہے اور اس بیان میں کوئی نئی بات تو نہیں تھی لیکن انتہا پسند لائبرمین کو تکلیف اس بیان میں پنہاں حقیقت پر ہے کہ فلسطینیوں کی اس سر زمین پر اب اسرائیل قائم ہیں۔

الٹے سیدھے بیانات کے لیے مشہور وزیر خارجہ نے اسرائیلی پبلک ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''یورپ نے ایک مرتبہ پھر اسرائیل کی تباہی کی اپیلوں کو نظر انداز کر دیا ہے۔ اس رویے کا ہم پہلے 1930ء کے عشرے کے اختتام اور 1940ء کے عشرے کے آغاز میں مشاہدہ کر چکے ہیں۔ تب یورپ نے عقوبتی کیمپوں میں جو کچھ ہوا تھا، اس کے بارے میں جانتے بوجھتے ہوئے بھی کچھ نہیں کیا تھا''۔

اسرائیلی وزیر خارجہ کا کہنا تھا: ''یورپ نے اپنے ہی چہرے پر تھپڑ رسید کیا ہے۔ جب یہودیوں کو قربان کیا جا رہا ہے تو آپ کو خود سے سوال کرنا چاہیے کہ اگلی باری کس کی ہو گی۔ طولوز میں یہودی بچوں کو قتل کرنے والے دہشت گرد نے فرانسیسی فوجیوں کو بھی ہلاک کیا تھا''۔

وہ فرانسیسی شہر میں اس سال مارچ میں ایک الجزائری نژاد فرانسیسی شہری محمد مراح کے ہاتھوں تین یہودی بچوں اور ایک ٹیچر کے قتل کا حوالہ دے رہے تھے۔ اس سے پہلے مراح نے تین فرانسیسی فوجیوں کو بھی ہلاک کر دیا تھا۔

انتہا پسند لائبرمین نے یورپ کے ساتھ ساتھ فلسطینی صدر محمود عباس کو بھی آڑے ہاتھوں لینے کی کوشش کی ہے اور یہ شکایت کی ہے کہ انھوں نے خالد مشعل کی تقریر پر تنقید نہیں کی بلکہ اس کے بجائے وہ حماس کے ساتھ مفاہمت کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔

''حماس، اسرائیل کی تباہی پر زور دے رہی ہے اور اس کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔ ابو مازن (فلسطینی صدر کی کنیت) اس موقف کی تائید کرتے ہیں جبکہ یورپ نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے''۔ ان کا کہنا تھا۔

لائبرمین کا یہ بیان اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں حال ہی میں یہودی آباد کاروں کے لیے نئے مکانوں کی تعمیر کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔ یورپی ممالک نے اسرائیل کے اس اقدام کی مذمت کی ہے اور اس پر زور دیا ہے کہ وہ فلسطینیوں کے علاقوں کو ہتھیانے سے گریز کرے۔

اسرائیل کی حزب اختلاف کی جماعت لیبر کے نائب سربراہ اضحاک ہرزوگ نے لائبرمین کے اس بیان کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ لائبرمین موجودہ صورت حال کا ہولوکاسٹ سے موازنہ کر کے اسرائیلیوں میں خوف وہراس پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ہرزوگ نے کہا کہ اسرائیل وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے متنازعہ یہودی بستی ای ون کی تعمیر کے منصوبے کو بحال کر کے مقبوضہ بیت المقدس کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے، اسرائیل کو تنہا کر دیا ہے اور ابو مازن کو کمزور اور حماس کو مضبوط کیا ہے''۔