.

قاہرہ مرسی مخالف مظاہرین نے صدارتی محل کے باہر رکاوٹیں ہٹا دیں

حزب اختلاف کا آئین پر ریفرینڈم کے خلاف احتجاج جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں متحارب سیاسی دھڑے منگل کو نئے آئین پر ریفرینڈم کے خلاف اور اس کے حق میں مظاہرے کر رہے ہیں اور صدر محمد مرسی کے مخالف مظاہرین نے صدارتی محل کی جانب جانے والی شاہراہ پر کھڑی کی گئی رکاوٹیں زبردستی ہٹا دی ہیں اور وہاں تعینات فوجیوں کو پیچھے ہٹ جانے پر مجبور کر دیا ہے۔

مظاہرین نے صدارتی محل کی جانب جانے والی شاہراہ پر لگے بڑے آہنی دروازے کو ہٹا دیا اور وہاں سے کنکریٹ کے بلاکوں کو بھی زنجیروں سے ایک طرف کردیا ہے۔اس دوران تشدد کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا ہے اور وہاں تعینات فوجی پیچھے چلے گئے تھے۔

قاہرہ کے مشہور میدان التحریر میں صدر محمد مرسی کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپ کے نتیجے میں نو افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق نامعلوم حملہ آوروں نے میدان التحریر میں دھرنا دینے والے حکومت مخالفین پر فائرنگ کی ہے۔

عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ مظاہرین پر حملہ کرنے والوں میں سے بعض نے اپنے چہرے چھپا رکھے تھے اور انھوں نے پٹرول بم بھی پھینکے جس سے وہاں آگ لگ گئی۔تاہم اس پر قابو پالیا گیا۔

صدر مرسی نے حکومت کے حامیوں اور مخالفین کے مظاہروں کے دوران کسی گڑبڑ سے بچنے کے لیے فوج کو پولیس کے ساتھ تعاون کرنے کی ہدایت کی ہے اور گذشتہ روز ایک حکم نامہ جاری کیا تھا جس کے تحت فوج کو شہریوں کو گرفتار کرنے کے اختیارات سونپ دیے گئے ہیں۔

صدر کے اس حکم نامے کے اجراء کے بعد آج صبح پولیس نے کاروں کے ساتھ میدان التحریر کا محاصرہ کر لیا تھا اور تئیس نومبر کو صدر مرسی کے متنازعہ آئینی اعلامیے کے اجراء کے بعد میدان التحریر میں پہلی مرتبہ پولیس کی کاریں دیکھی گئی ہیں۔انھوں نے اپنے جاری کردہ اس متنازعہ آئینی اعلامیے کو ہفتے کے روز واپس لے لیا تھا لیکن انھوں نے ریفرینڈم کو موخر کرنے سے متعلق حزب اختلاف کا مطالبہ تسلیم نہیں کیا تھا۔

درایں اثناء حزب اختلاف کے سرکردہ لیڈر محمد البرادعی نے سی این این کے ساتھ ایک انٹرویو میں حزب اختلاف پر صدر مرسی کے ساتھ مذاکرات کرنے پر زور دیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ موجودہ افراتفری کی صورت حال کے پیش نظر نئے دستور پر ریفرینڈم کو چند ماہ کے لیے موخر کر دے۔ انھوں نے کہا کہ ملک میں ایک آمر کو دوسرے آمر سے تبدیل کرنے کے لیے تو انقلاب برپا نہیں کیا گیا تھا۔

ایک اور اپوزیشن لیڈر اور ناکام صدارتی امیدوار حمدین صباحی کا کہنا ہے کہ صدر مرسی نے جو راستہ اختیار کیا ہے،اس سے قومی اتفاق رائے کے امکانات معدوم ہو گئے ہیں اور اگر ریفرینڈم میں نئے آئین کو منظور بھی کر لیا جاتا ہے تو اس سے معاشرے میں تقسیم بڑھے گی اور افراتفری پیدا ہوگی۔

دوسری جانب اخوان المسلمون کے ترجمان محمود غزلان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کو مظاہرے کرنے کا حق حاصل ہے۔ وہ ریفرینڈم کے بائیکاٹ، اس میں شرکت یا کچھ بھی کرنے کے لیے آزاد ہے لیکن وہ یہ سب کچھ پُرامن انداز میں کرے اور اس کو ملک کی سلامتی اور امن کو برقرار رکھنا چاہیے۔

حزب اختلاف کے مختلف گروپوں پر مشتمل قومی محاذ آزادی صدر مرسی سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ نئے آئین کے مسودے پر پندرہ دسمبر کو ہونے والے ریفرینڈم کو منسوخ کر دیں۔ اس نے یہ مطالبہ منظور ہونے تک حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

اپوزیشن نے تمام مصری نوجوانوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے مطالبات تسلیم ہونے تک قاہرہ کے تمام چوکوں میں دھرنے دیں۔حزب اختلاف کے مقابلے میں صدر مرسی کے حامی اسلامی جماعتوں کے کارکنان بھی قاہرہ اور دوسرے شہروں میں نئے آئین اور اس پر ریفرینڈم کے حق میں مظاہرے کر رہے ہیں۔