.

جہاد مقدسی تین ماہ کی رخصت پر ہیں، منحرف نہیں ہوئے شامی اخبار

لونا الشبل کو مقدسی کی جگہ ترجمان نہیں بنایا جا رہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شامی حکومت کے مقرب روزنامے 'الوطن' نے انکشاف کیا ہے دفتر خارجہ کے ترجمان جہاد مقدسی صدر بشار الاسد سے منحرف نہیں ہوئے بلکہ وہ تین ماہ کی رخصت پر ملک سے باہر گئے ہیں۔

اخبار نے شناخت ظاہر نہ کرنے والے ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ ایک پین عرب ٹی وی کی سابقہ نیوز اینکر لونا الشبل کو شامی وزارت خارجہ اور تارکین وطن کا ترجمان مقرر کئے جانے کی افواہیں سوشل نیٹ ورک پر گردش کر رہی ہیں۔

شامی حکومت کے قریبی ذرائع ابلاغ نے مقدسی کے استعفی کی خبر کے بعد بتایا تھا کہ جہاد مقدسی کے استعفے سے قبل ان کی علاحدگی کی خبریں آنا شروع ہو گئیں تھیں کیونکہ انہوں نے ایک بیان میں دعوی کیا تھا کہ دمشق کسی صورت کیمیاوی ہتھیار استعمال نہیں کرے گا۔ اس بیان کو دفتر خارجہ نے تحریری متن سے متجاوز قرار دیا جس کے بعد ان کا بشار الاسد کے ساتھ چلنا محال تھا۔

فوجی میڈیا سیل نے مقدسی کے مستعفی ہونے کے دو دن بعد ایک اعلان میں دعوی کیا کہ جہاد مقدسی کے المزہ [دمشق] میں گھر کو نذر آتش کر دیا۔ یہ اقدام انہیں سرکار کے خلاف منہ کھولنے کی پاداش میں سزا دینے کے لئے کیا گیا۔

جہاد مقدسی کو بشار الاسد کا ''جیمزبانڈ'' قرار دیا جاتا تھا لیکن اب شامی حکومت کی جانب سے انھیں غدار قرار دیا جا رہا ہے اور حزب اختلاف کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کے مکان کو جلانے کا ایک مقصد عیسائی اقلیت کو ڈرانا دھمکانا ہو سکتا ہے کیونکہ انھوں نے ابھی تک صدر اسد کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک میں شرکت نہیں کی اور وہ اسدرجیم کی حمایت کر رہے ہیں۔

درایں اثناء جہاد مقدسی سے قریبی تعلق رکھنے والے افراد کا کہنا ہے کہ وہ کافی عرصہ پہلے شام چھوڑنا چاہتے تھے لیکن وہ اپنے والدین کی دمشق سے بیروت میں محفوظ منتقلی چاہتے تھے۔ان کا کہنا ہے کہ اب جہاد مقدسی جلد ایک نیوزکانفرنس کریں گے۔

جہاد مقدسی روانی سے انگریزی بولتے ہیں اور وہ پیشہ ور ابلاغی ماہر ہیں۔ انھیں مارچ 2011ء میں شامی صدر بشار الاسد کے خلاف عوامی تحریک کے آغاز کے بعد وزارت خارجہ کا ترجمان مقرر کیا گیا تھا۔

وہ دمشق میں نیوز کانفرنسوں میں صدر بشار الاسد کی عوامی مزاحمتی تحریک کے خلاف کارروائیوں کا دفاع کرتے اور شامی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں شہریوں کے قتل عام کی تردید کرتے رہے تھے لیکن وہ گذشتہ چند ہفتوں سے میڈیا پر نمودار نہیں ہورہے تھے۔اس سے یہ قیاس آرائی کی گئی تھی کہ انھیں ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے یا وہ خود الگ ہو کر کہیں روپوش ہو گئے ہیں۔