.

دمشق میں وزارت داخلہ کے باہر کار بم دھماکا،7 ہلاک و متعدد زخمی

شامی فوج پر شہروں میں آتش گیر بم برسانے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شام کے دارالحکومت دمشق کے جنوب مغرب میں واقع علاقے کفر سوسہ میں وزارت داخلہ کے مرکزی دروازے کے باہر کار بم دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں سات افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نے بدھ کی شام بم دھماکے کی اطلاع دی ہے اور بتایا ہے کہ اس میں جانی نقصان ہوا ہے لیکن اس کی مزید تفصیل نہیں بتائی۔ کفر سوسہ کا علاقہ اُمیہ اسکوائر کے نزدیک واقع ہے اور اس جگہ باغی جنگجوؤں اور صدر بشار الاسد کے حامیوں کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔

علاقے میں مقیم ایک خاتون نے برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ انھوں نے زوردار دھماکے کے بعد سائرن بجنے اور فائرنگ کی آوازیں سنی ہیں۔

درایں اثناء انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے شامی فوج پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ شہری علاقوں میں آتش گیر ہتھیار استعمال کر رہی ہے۔ تنظیم نے شامی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسے ہتھیار کا استعمال ترک کردیں جن کے نتیجے میں انسانی مصائب میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ''ایسے ہتھیار سوویت ماڈل کے دو قسم کے ہیں۔ان میں سے ایک کو پھوڑنے سے فٹ بال کے میدان کے برابر علاقے میں اڑتالیس چھوٹے چھوٹے آتش گیر ہتھیار پھیل جاتے ہیں''۔

ایسے ہتھیاروں میں نیپام، تھرمائٹ یا سفید فاسفورس پر مشتمل آتش گیر مواد ہوتا ہے اور ان کا ہدف بننے والی عمارت میں آگ لگ جاتی ہے اور نشانہ بننے والے انسانوں کو شدید زخم آتے ہیں۔ تنظیم نے شامی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسے آتش گیر ہتھیاروں کے استعمال سے گریز کرے۔

ایچ آر ڈبلیو نے عینی شاہدین سے انٹرویوز ،شامی صدر کے مخالف کارکنان کی انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کی گئی ویڈیوز کے جائزے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ شامی فوج شہریوں کے خلاف ان خطرناک ہتھیاروں کو استعمال کر رہی ہے۔ دمشق کے نواح میں واقع دو قصبوں، شمالی صوبہ ادلب میں واقع ایک شہر اور وسطی صوبہ حمص کے ایک قصبے میں باغی جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کے دوران شامی فوج نے یہ خطرناک ہتھیار استعمال کیے ہیں۔