.

دوستان شام ممالک نے شامی قومی اتحاد کو تسلیم کرلیا

علویوں سے صدر مخالف سول نافرمانی کی تحریک چلانے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شامی صدر بشارالاسد کے مخالف دوستان شام ممالک نے حزب اختلاف کے مختلف گروپوں پرمشتمل قومی اتحاد کو شامی عوام کا حقیقی نمائندہ تسلیم کر لیا ہے۔

دوستان شام ممالک کے عہدے داروں نے مراکش کے جنوبی شہر مراکش میں اپنی کانفرنس کے دوران شامی حزب اختلاف کے اتحاد کو عوام کا حقیقی نمائندہ تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اجلاس کے بعد مراکشی وزیر خارجہ سعدالدین العثمانی نے اس فیصلے کے بارے میں بتایا ہے۔



شامی قومی اتحاد کے سربراہ معاذ الخطیب نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اپنے ملک کی علوی اقلیت پر زوردیا کہ وہ اپنے ہم فرقہ صدر بشارالاسد کے خلاف جدوجہد میں حزب اختلاف کا ساتھ دے اور حکومت کے خلاف سول نافرمانی کی مہم شروع کرے۔

انھوں نے پڑوسی ملک لبنان کی شیعہ تنظیم حزب اللہ سے مطالبہ کیا کہ وہ شام سے اپنے جنگجوؤں کو واپس بلائے۔انھوں نے مزید کہا کہ اگر صدر بشارالاسد نے باغی جنگجوؤں کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کیے تو عالمی طاقتوں اور خاص طور پر روس کو اس کا ذمے دار ٹھہرایا جائے گا۔

معاذ الخطیب نے شامی صدر کے حامی ملک ایران سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ شام سے اپنے اہلکاروں کو واپس بلائے۔انھوں نے کہا کہ شام میں جن جنگی جرائم کا ارتکاب کیا گیا ہے ،ان کا معاملہ ہیگ میں قائم عالمی فوجداری عدالت کو بھیجا جانا چاہیے۔

گذشتہ روز امریکی صدر براک اوباما نے شامی قومی اتحاد کو عوام کا نمائندہ تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔روس نے امریکا کے اس فیصلے پر حیرت کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ اقدام شام میں سیاسی طور پر انتقال اقتدار کے لیے جاری کوششوں کے منافی ہے۔

روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے شامی قومی اتحاد کو تسلیم کرنے سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ وہ صدر بشارالاسد کی حکومت پر قومی اتحاد کی مسلح جیت کو ترجیح دے رہا ہے۔

واضح رہے کہ ''دوستان شام'' ممالک نے چند ماہ قبل استنبول میں منعقدہ اپنی دوسری کانفرنس میں حزب اختلاف کے سب سے بڑے گروپ شامی قومی کونسل (ایس این سی) کو ملک کے تمام عوام کا حقیقی نمائندہ تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔اب اس گروپ نے اس کے بجائے نئے قومی اتحاد کو شامی عوام کا حقیقی نمائندہ تسلیم کر لیا ہے۔اس گروپ میں ستر سے زیادہ ممالک شامل ہیں۔مراکش کانفرنس میں ایک سو تیس ممالک کے وزرائے خارجہ یا دوسرے اعلیٰ عہدے دار شریک تھے۔