.

مصر قومی محاذ آزادی کا آئینی ریفرینڈم میں حصہ لینے کا اعلان

وزارت دفاع کے زیر اہتمام قومی مذاکرات ملتوی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کی حزب اختلاف کی جماعتوں پر مشتمل اتحاد قومی محاذ آزادی نے مشروط طور پر نئے آئین پر دو مراحل میں ہونے والے ریفرینڈم میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔

قومی محاذ آزادی نے ریفرینڈم میں حصہ لینے کے لیے اپنی شرائط کا اعلان نہیں کیا لیکن اس نے مصری عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ پندرہ اور بائیس دسمبر کو آئین پر ہونے والے ریفرینڈم میں اپنا حق رائے دہی استعمال کریں۔

سابق ناکام صدارتی امیدوار اور حزب اختلاف کے لیڈر حمدین صباحی نے بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ مصری عوام کے پاس آئینی منصوبے کو رائے شماری کے ذریعے ناکام بنانے کا موقع موجود ہے۔

حزب اختلاف کی جانب سے اس اعلان سے قبل مصر کی مسلح افواج کے سربراہ اور وزیر دفاع جنرل عبدالفتاح السیسی نے اپنی میزبانی میں ہونے والے قومی مذاکرات کو ملتوی کردیا ہے۔انھوں نے اپنی وزارت کے زیر اہتمام متحارب سیاسی گروہوں کو ملک میں جاری بحران کے حل کے لیے قومی مذاکرات میں شرکت کی دعوت دی تھی۔

جنرل السیسی نے منگل کی رات صدر محمد مرسی کے ہزاروں حامیوں اور مخالفین کے مظاہروں کے بعد ایک نشری بیان میں متحارب سیاسی دھڑوں سے اپیل کی تھی کہ وہ مل بیٹھیں اور ملک میں جاری بحران کا کوئی حل نکالیں۔ ان کی دعوت پر یہ مذاکرات آج بدھ کو ہونے والے تھے لیکن ان کو بعض وجوہ کی بنا پر ملتوی کر دیا گیا ہے۔

مصری فوج نے صدر مرسی اور حزب اختلاف کے گروپوں، نوجوانوں کی تحریکوں، ججوں اور صحافیوں کے درمیان قومی اتحاد کے لیے بات چیت کی ضرورت پر زوردیا تھا تاکہ آئین پر ہونے والے ریفرینڈم کے معاملے پر جاری اختلافات کا خاتمہ کیا جا سکے۔

قومی محاذ آزادی نے پہلے ریفرینڈم کو منسوخ کیے بغیر صدر مرسی اور ان کی حامی سیاسی جماعتوں کے ساتھ بات چیت سے انکار کر دیا تھا۔ تاہم اس کا کہنا تھا کہ وہ فوج کی مذاکرات کی اپیل پر غور کر رہا ہے۔ صدر مرسی نے بھی کہا تھا کہ وہ حزب اختلاف کے ساتھ مذاکرات کو تیار ہیں لیکن ریفرینڈم کو ملتوی نہیں کیا جائے گا۔