.

عراق مفرور نائب صدر کو پانچویں مرتبہ پھانسی کی سزا سنا دی گئی

طارق الہاشمی پر اسلحہ رکھنے کے الزام میں قائم مقدمے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
بغداد کی ایک فوجداری عدالت نے عراق کے مفرور نائب صدر طارق الہاشمی کو ناجائز اسلحہ رکھنے کے جرم میں سزائے موت کا حکم دیا ہے۔

عراقی عدالتوں سے گذشتہ تین ماہ میں مفرور نائب صدر کو ان کی ملک میں عدم موجودگی کے دوران پانچ مرتبہ سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔ طارق الہاشمی عراقی وزیر اعظم نوری المالکی کے شدید ناقد ہیں۔ انھوں نے عراقی عدالتوں سے اپنے اور اپنے عملے کو مختلف الزامات میں سنائی گئی سزاؤں کو مسترد کر دیا ہے اور انھیں سیاسی محرکات کا حامل قرار دیا ہے۔

عراق کی ایک فوجداری عدالت نے تین ماہ قبل مفرور نائب صدر کو ڈیتھ اسکواڈ چلانے کے الزام میں قصور وار قرار دے کر پہلی مرتبہ سزائے موت سنائی تھی۔ گذشتہ سال دسمبر میں ان پر اور ان کے محافظوں پر چھے ججوں اور دوسرے سنئیر حکام کے قتل سمیت سنگین نوعیت کے ایک سو پچاس الزامات عاید کیے گئے تھے۔ان پر دہشت گردی کی کارروائیوں میں معاونت کا الزام بھی عاید کیا گیا تھا۔

بغداد کی مرکزی فوجداری عدالت نے گذشتہ ماہ طارق الہاشمی اور ان کے داماد کو اپنے محافظوں کو وزارت داخلہ کے ایک اعلیٰ افسر کو قتل کرنے کے لیے ان کی کار کے ساتھ بم نصب کرنے کی شہ دینے کے الزام میں سزائے موت سنائی تھی۔ وزیر اعظم نوری المالکی کی حکومت نے مفرور نائب صدر اور ان کے داماد پر گذشتہ سال دسمبر میں شیعہ زائرین پر کار بم حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں مقدمہ قائم کیا تھا۔ عراقی سکیورٹی فورسز نے مبینہ طور پر بارود سے بھری ایک کار کو پکڑا تھا اور حملے کی اس سازش کو ناکام بنا دیا تھا۔

طارق الہاشمی اپنے خلاف عاید کردہ تمام الزامات کو سیاسی قرار دے کر مسترد کر چکے ہیں۔انھوں نے العربیہ کے ساتھ ایک انٹرویو میں شیعہ وزیر اعظم نوری المالکی پر ملک کے اہل سنت کو نشانہ بنانے اور ان کے خلاف بے بنیاد مقدمات چلانے کے الزامات عاید کیے تھے اور کہا تھا کہ''اس وقت عراقی جیلوں میں قید افراد میں نوے فی صد سُنی ہیں''۔

ہاشمی دسمبر 2011ء میں اپنے خلاف مقدمات قائم ہونے کے بعد عراق سے بیرون ملک چلے گئے تھے۔وہ 9 اپریل 2012ء سے صحت کی وجوہ کی بنا پر ترکی میں مقیم ہیں اور ترکی انھیں عراق بدر کرنے سے انکار کر چکا ہے۔ انھوں نے نوری المالکی کی حکومت پر الزام عاید کیا تھا کہ ان کے محافظوں اور دوسرے ملازمین کو خفیہ جیلوں میں قید کرکے ان سے تشدد کے ذریعے اعترافی بیانات حاصل کیے گَئے تھے۔ حراست کے دوران تشدد کے نتیجے میں ان کے دو محافظ ہلاک ہو گئے تھے لیکن مالکی حکومت نے ان کے اس دعوے کی تردید کی تھی۔