.

مغربی کنارے میں حماس کی ریلی میں ہزاروں افراد کی شرکت

فلسطینی تنظیم کے یومِ تاسیس پر عوامی طاقت کا مظاہرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اسرائیل کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر نابلس میں ہزاروں فلسطینیوں نے جمعرات کو اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے یوم تاسیس کے موقع پر نکالی گئی ریلی میں شرکت کی ہے۔

مغربی کنارے کی حکمران فلسطینی اتھارٹی نے 2007ء کے بعد پہلی مرتبہ حماس کو نابلس میں اس کے یوم تاسیس کے سلسلہ میں ریلی نکالنے کی اجازت دی ہے۔ اس ریلی کا آغاز ایک مسجد سے ہوا۔اس میں باپردہ خواتین اور پر جوش فلسطینی نوجوان کی بڑی تعداد شریک تھی۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے اپنے نمائندے کے حوالے سے بتایا ہے کہ مظاہرے میں پانچ ہزار سے زیادہ افراد شریک تھے اور انھوں نے حماس کے سبز ہلالی پرچم اٹھا رکھے تھے۔

مظاہرین نے ریلی کے دوران گذشتہ ماہ اسرائیل کی غزہ پر مسلط کردہ سات روزہ جنگ میں حماس کی اخلاقی فتح کے حق میں بھی نعرے بازی کی۔انھوں نے بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر حماس اور اس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈ کے حق میں نعرے درج تھے اور ان کی کامیابیوں کی تحسین کی گئی تھی۔

ان بینروں میں سے بعض پر لکھا تھا: ''جہاد ہمارا راستہ ہے''۔''غزہ کی جنگ آزادی کی راہ ہے''۔ ایک بینر پر لکھا تھا:''ہم حماس کے ساتھ ہیں، آپ بندوقیں اور ہم بارود ہیں''۔

واضح رہے کہ مغربی کنارے میں حماس کی متحارب سیاسی جماعتب فتح کی بالادستی والی فلسطینی اتھارٹی کی حکومت قائم ہے۔ دونوں جماعتوں کے درمیان 2006ء میں منعقدہ پارلیمانی انتخابات میں حماس کی شاندار کامیابی کے بعد سے اختلافات چلے آ رہے ہیں۔ ان انتخابات کے نتیجے میں حماس نے حکومت بنائی تھی لیکن ایک سال کے بعد ہی دونوں جماعتوں میں اختلافات پیدا ہو گئے تھے اور مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی نے اپنی الگ حکومت قائم کر لی تھی اور حماس کے کارکنان کو علاقے سے نکال باہر کیا تھا اور علاقے سے اس کے اثر و رسوخ کو عملاً ختم کر دیا تھا۔

دوسری جانب غزہ میں حماس نے اپنی الگ حکومت قائم کر لی تھی اور اس نے وہاں سے فتح کی قیادت اور سرگرم کارکنان کو نکال باہر کیا تھا۔ دونوں جماعتوں کے درمیان مصر کی ثالثی میں گذشتہ سال ایک مفاہمتی معاہدہ طے پایا تھا لیکن اس پر آج تک عمل درآمد کی نوبت نہیں آئی۔اس معاہدے کے تحت دونوں متحارب جماعتوں نے بارہ ماہ کے عرصے میں پارلیمانی اور صدارتی انتخابات کرانے سے اتفاق کیا تھا۔

فلسطینی صدر اور فتح کے سربراہ محمود عباس اور حماس کے جلا وطن قائد خالد مشعل نے اس معاہدے پر عمل درآمد کے لیے متعدد مرتبہ بات چیت کی تھی لیکن ان کے درمیان طے پائی مفاہمت کو مبینہ طور پر غزہ میں حماس کی قیادت نے تسلیم نہیں کیا تھا۔ اب ایک مرتبہ پھر دونوں لیڈر دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان اختلافات کے خاتمے اور مفاہمت کے لیے کوشاں ہیں اور دونوں ہی نے اپنے اپنے موقف میں لچک دکھانے کے اشارے دیے ہیں۔