.

ریفرینڈم سے قبل صدر مرسی کے حامیوں اور مخالفین میں جھڑپیں

نئے آئین پر استصواب رائے کے انعقاد کی تیاریاں مکمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کے دوسرے بڑے شہر اسکندریہ میں آئینی ریفرینڈم کے انعقاد سے ایک روز قبل صدر محمد مرسی کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں جن میں 13 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق اسکندریہ میں صدر مرسی کے حامیوں اور مخالفین نے ایک دوسرے پر پتھراؤ کیا ہے۔ صورت حال پر قابو پانے کے لیے پولیس کو طلب کر لیا گیا تھا لیکن پولیس اہلکاروں کی موجودگی کے باوجود متحارب گروہوں کے درمیان سڑکوں اور بازاروں میں دوبدو لڑائی جاری تھی۔

ہفتے کے روز قاہرہ ،اسکندریہ اور آٹھ دوسری گورنریوں سے تعلق رکھنے والے رجسٹرڈ ووٹر آئین کے نئے مسودے کے حق یا مخالفت میں اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ حکومت نے ریفرینڈم کے انعقاد کے لیے تمام تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ایک ہفتے کے بعد بائیس دسمبر کو ملک کے دوسرے علاقوں میں آئین پر ریفرینڈم منعقد کرایا جائے گا۔

مصر کے نئے آئین پر دو مراحل میں ہونے والے ریفرینڈم پر اسلامی جماعتوں اور ان کے مخالف لبرل اور سیکولر طبقوں کے درمیان شدید کشیدگی پائی جارہی ہے۔ اس سے قبل دونوں دھڑوں کے حامیوں کے درمیان قاہرہ اور دوسرے شہروں میں بھی جھڑپیں ہو چکی ہیں۔ ان میں آٹھ افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوگئے تھے۔

دارالحکومت قاہرہ میں صدر مرسی کی پشت پناہ جماعت اخوان المسلمون نے جمعہ کو ملک نئے آئین کے حق میں مظاہرہ کیا ہے اور اپنے حامیوں پر زور دیا ہے کہ وہ ریفرینڈم میں آئین کے حق میں ووٹ دیں جبکہ سیکولر حزب اختلاف اس آئین کی مخالفت کر رہی ہے اور وہ اپنے حامیوں کو آئین کی مخالفت میں ووٹ ڈالنے کا کہہ رہی ہے۔

حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ ملک کا نیا آئین تمام مصریوں کا نمائندہ نہیں ہے۔ اس لیے اس کو مسترد کیا جانا ضروری ہے۔چنانچہ حزب اختلاف کے لیڈر الیکٹرانک، ،پرنٹ اور سوشل میڈیا پر رائے عامہ پر اثرانداز ہونے کے لیے مہم چلا رہے ہیں۔

بعض تجزیہ کاروں کے مطابق اخوان المسلمون سابق صدر حسنی مبارک کے دھڑن تختے کے بعد مصر میں ہونے والے پارلیمانی اور صدارتی انتخابات میں کامیابی کی طرح ریفرینڈم کے حق میں بھی شاید لوگوں سے ووٹ ڈلوانے میں کامیاب ہو جائے۔ تاہم رائے شماری سے قبل نئے آئین کی منظوری یا استرداد سے متعلق کچھ کہنا مشکل ہے۔

حزب اختلاف کی جماعتوں پر مشتمل اتحاد قومی محاذ آزادی نے آئینی ریفرینڈم میں حصہ لینے کا تو اعلان کیا ہے لیکن اس نے اپنے حامیوں سے کہا ہے کہ وہ آئین کی مخالفت میں ووٹ ڈالیں اور اس کو مسترد کر دیں۔ سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف تحریک میں پیش پیش نوجوانوں پر مشتمل چھے اپریل تحریک بھی آئین کی مخالفت میں مہم چلا رہی ہے۔ اس نے مصریوں پر زور دیا ہے کہ وہ کل کلاں اس آئین کا خمیازہ بھگتنے کے بجائے بہتر ہے آج ہی اس کو مسترد کر دیں۔