.

مصری عوام ریفرینڈم میں نئے آئین کو مسترد کر دیں ابو الفتوح

آئینی مسودے پر ہاں کے بجائے ناں میں ووٹ دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کے سابق صدارتی امیدوار عبدالمنعم ابوالفتوح نے اپنے ہم وطنوں پر زور دیا ہے کہ وہ دو مراحل میں ہونے والے ریفرینڈم میں مجوزہ آئین کو مسترد کر دیں۔

ایک نئی جماعت ''مضبوط مصر پارٹی'' کے بانی نے جمعہ کو ایک ویڈیو ٹیپ پیغام جاری کیا ہے اور اس میں کہا ہے کہ مصریوں کو تین وجوہ کی بنا پر نئے آئیں کے خلاف ''ناں'' میں ووٹ دینا چاہیے۔

انھوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے نمبر پر نئے آئین میں سماجی انصاف کو کوئی جگہ نمایاں جگہ نہیں دی گئی حالانکہ اس کے بارے میں ہم بہت باتیں کرتے رہے ہیں لیکن صحت، معذوریوں، بے روزگاری اور اجرتوں سے متعلق ایشوز کو طے نہیں کیا گیا۔

ابو الفتوح نے کہا کہ ''آئین کو مسترد کرنے کے لیے دوسرا بڑا ایشو فوجی اسٹیبلشمنٹ کی بالادستی ہے۔ اس کو خصوصی درجہ دے دیا گیا ہے۔ اب فوجی عدالتیں تشکیل دی جائیں گی اور ان میں شہریوں کا فوجی ٹرائل کیا جائے گا''۔

انھوں نے کہا کہ ہمیں مصری فوج پر فخر ہے لیکن ہم اس کا سیاست اور معیشت سے کوئی تعلق نہیں چاہتے۔ انھوں نے اس سے پہلے مصر میں جاری حالیہ بحران کے دوران فوج کی جانب سے جاری کردہ بیان کی مذمت کی تھی۔

عبدالمنعم ابو الفتوح اخوان المسلمون کے سابق رکن رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ''ان کی نئی جماعت کو نئے آئین میں صدر کے اختیارات پر اعتراض ہے اور ہم روز اوّل سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ مصر کا سیاسی نظام صدارتی اور پارلیمانی ہونا چاہیے''۔

ان کا کہنا تھا کہ ''صدر کے اختیارات کو کم کرنے کے بجائے ان کو مزید وسعت دے دی گئی ہے اور نگرانی کے بعض نظام اور دوسرے سرکاری اداروں کی تشکیل بھی نئے آئین کا حصہ ہے''۔

مصر کی بعض سیاسی جماعتوں نے ہفتے کے روز ہونے والے آَئینی ریفرینڈم کے بائیکاٹ کی اپیل کر رکھی ہے۔ ابو الفتوح نے ان جماعتوں پر الزام عاید کیا ہے کہ انھوں نے اپنے سیاسی تنازعات کو طے کرنے اور غیر ملکی ایجنڈے کو پورا کرنے کے لیے بائیکاٹ کا راستہ اختیار کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کی جماعت نے جمہوری عمل میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ ریفرینڈم میں مجوزہ آئین کے خلاف 'ناں' میں ووٹ دے گی۔