.

نئی یہودی بستیاں مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے لئے خطرہ قرار

اسرائیل، فلسطینیوں کے 100 ملین ڈالرز فوری ادا کرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
یورپی پارلیمنٹ نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں مغربی کنارہ اور بیت المقدس میں یہودیوں کے لئے تین ہزار نئے مکانات تعمیر کی اسرائیلی اسکیم کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اسے مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔

یورپی پارلیمنٹ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یورپی ایوان براہ راست فلسطین ۔ اسرائیل امن بات چیت کی بحالی کی پر زور حامی ہے لیکن اس کے ساتھ متنازعہ علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر کو امن کی کوششوں کی راہ میں رکاوٹ سمجھتی ہے۔ اس اصولی موقف کے ساتھ یورپی پارلیمنٹ، فلسطینی انتظامیہ اور اسرائیلی حکومت سے یہ مطالبہ دُہراتی ہے کہ وہ خطے میں دیرپا امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانے سے گریز کریں اور ایسا کوئی قدم نہ اٹھائیں جس سے خطے میں امن کی راہ میں رکاوٹیں پیدا ہوں۔

بیان میں اسرائیل کو خبردار کیا گیا کہ دو دسمبر کو مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس میں یہودی بستیوں کی تعمیر کا فیصلہ غرب اردن کی تقسیم کا باعث بنے گا جس کے نتیجے میں فلسطیینی ریاست کا وجود عملاً نا ممکن ہو جائے گا۔ یورپی پارلیمنٹ مشرقی بیت المقدس اور مغربی کنارے میں یہودی کالونیوں کو غیر قانونی سمجھتی ہے اور اسرائیل سے مزید تعمیرات فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کرتی ہے۔

یورپی پارلیمنٹ نے فلسطینی اتھارٹی کے روکے گئے ایک سو ملین ڈالرز بھی رام اللہ انتظامیہ کو فوری ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ پارلیمنٹ نے فریقین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ یورپی یونین کے توسط سے باہمی اختلافات بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں۔

پارلیمنٹ نے اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے سیاسی شعبے کے سربراہ خالد مشعل کے اس بیان کی بھی مذمت کی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ان کی جماعت اسرائیل کو قانونی ریاست تسلیم نہیں کرے گی۔ یورپی پارلیمان کا کہنا ہے کہ حماس کو چاہیے کہ وہ اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرے تاکہ خطے میں فلسطینی ریاست کی طرف پیش رفت کی جاسکے۔ پارلیمنٹ نے فلسطینی تنظیموں حماس اور الفتح کے درمیان مفاہمت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔