.

مصر نئے دستور سے متعلق ریفرینڈم میں ووٹنگ کا سلسلہ جاری

بیلٹ پیپر ہر 'منظور' اور 'نا منظور' کے آپشن دیئے گئے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر سے العربیہ کے نامہ نگاروں کے مطابق ملک کے نئے دستور کے بارے میں ریفرینڈم کے پہلے مرحلے میں منتخب شہروں میں ہونے والی ووٹنگ میں بڑے پیمانے پر عوامی شرکت دیکھی جا رہی ہے۔ مصر کے معیاری وقت صبح آٹھ بجے [چھے بجے گرینچ ٹائم] ریفنرینڈم میں ووٹنگ کا آغاز ہوا۔ نئے متنازعہ دستور کے مسودے پر مصری قوم واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم دکھائی دیتی ہے۔

ریفرینڈم کے پہلے مرحلے میں مصر کے دس شہروں میں ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔ ساڑھے پینتالیس ہزار انتخابی مراکز پر ہونے والی ریفرینڈم ووٹنگ کی نگرانی پر سات ہزار جوڈیشل افسران مقرر ہیں۔ بائیس دسمبر کو دوسرے مرحلے پر مصر کے باقی 17 شہروں میں ووٹنگ ہو گی۔ ان میں الجیزہ شہر بھی شامل ہے۔

ریفرینڈم کی نگرانی کرنے والے ججوں کی حفاظت کی خاطر پولیس اور فوج کی بھاری نفری پولنگ اسٹیشنز کے باہر تعینات ہے۔ یاد رہے کہ مصری ججوں کی بڑی تعداد نے ریفرینڈم کی نگرانی سے معذرت کر لی تھی جس کے بعد حکام کو نگران عملے کے خلاف پرتشدد کارروائیوں کا خدشہ ہے۔

ووٹنگ کا عمل صبح آٹھ بجے سے شام سات بجے تک جاری رہے گا، تاہم وقت ختم کی صورت میں جو افراد پولنگ اسٹینشز کی حدود میں ہوں گے، وہ حق رائے دہی استعمال کر سکیں گے۔ ابھی تک ریفرینڈم کے نتیجے کے اعلان کا وقت مقرر نہیں کیا گیا۔

ریفرینڈم کی نگرانی کرنے والی سپریم کونسل نے اعلان کیا ہے کہ سول سوسائٹی اور مقامی و بین الاقوامی این جی اوز کو نئے دستور کے بارے میں ووٹنگ کے عمل کو مانیٹر کرنے کی عام اجازت ہے۔

گزشتہ چند ہفتوں کے دوران مصر میں اسلام پسندوں اور ان کے سیاسی مخالفین کے درمیان نئے دستور کے بارے میں ریفرینڈم کے حوالے سے شدید تناؤ دیکھا گیا، اس دوران دونوں فریقوں کے حامیوں کے درمیان پرتشدد جھڑپوں کا سلسلہ بھی دیکھا گیا۔