.

بشارالاسد اپنے آبائی شہر میں آخری جنگ لڑنے کو تیار

میں گیا تو شام باقی نہیں بچے گا:شامی صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شامی صدر بشارالاسد دارالحکومت دمشق سے راہ فرار اختیار کرکے اپنے آبائی شہر منتقل ہونے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔

اس بات کا انکشاف اسی ہفتے سنڈے ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں کیا ہے۔اخبار نے ایک روسی ذریعے کے حوالے سے لکھا ہے کہ بشارالاسد کسی بھی بدتر صورت حال کا مقابلہ کرنے کی تیاری کررہے ہیں اور اس مقصد کے لیے انھوں نے اپنے ہم مذہب سکیورٹی اہلکاروں کو بڑی تعداد کو اپنے آبائی شہر میں منتقل کردیا ہے۔

اخبار نے ایک غیر مصدقہ رپورٹ کے حوالے سے لکھا ہے کہ بشارالاسد ممکنہ طور پر پہلے ہی اپنے خاندان کے افراد کو بھی اپنے آبائی شہر قردہ میں منتقل کرچکے ہیں جہاں ان کی وفادار علوی خصوصی فورسز ان کا تحفظ کررہی ہیں۔

مشرق وسطیٰ کے انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق سات کمانڈو بٹالینز اور ایک بیلاسٹک میزائل بٹالین کو اسی مہینے علویوں کے اکثریتی علاقے میں تعینات کیا گیا ہے۔ان بٹالینز میں زیادہ تر علوی کمانڈوز ہی شامل ہیں۔ان میں سے میزائل بٹالین کو کیمیائی ہتھیاروں سے بھی لیس کردیا گیا ہے اور سرحد کے ساتھ بارودی سرنگیں بچھا دی گئی ہیں جبکہ علاقے کی نگرانی کے لیے ایلیٹ سپیشل فورسز کو بھیج دیا گیا ہے۔

سنڈے ٹائمز کی اس رپورٹ سے قبل ایسی اطلاعات سامنے آچکی ہیں کہ باغی جنگجوؤں کی تیز رفتار پیش قدمی کے پیش نظر علویوں کی بڑی تعداد لبنان اور ترکی کے درمیان واقع بحر متوسطہ کے علاقے کی جانب جارہی ہے اور وہ وہاں اپنی کمین گاہِِیں بنا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ علوی شام کی کل آبادی کا قریباً بارہ فی صد ہیں۔وہ صدر بشارالاسد کے خلاف گذشتہ اکیس ماہ سے جاری مسلح عوامی بغاوت کے دوران ان کے وفادار رہے ہیں اور اس وقت بھی وہ سکیورٹی اداروں اور حکومت کے اہم عہدوں پر فائز ہیں۔

مذکورہ روسی ذریعے نے برطانوی اخبار کو بتایا کہ اگر بشارالاسد اپنی آخری جنگ کو اپنے آبائی شہر میں منتقل کردیتے ہیں تو ان کی فوج مقامی آبادی کی حمایت اور ہمدردی کی مدد سے کئی ماہ تک باغیوں کے خلاف لڑائی جاری رکھ سکتی ہے۔اس روسی ذریعے نے مارچ 2011ء میں شام میں حکومت مخالف عوامی بغاوت کے آغاز کے بعد سے صدر اسد سے کئی مرتبہ ملاقات کی تھی۔

ان صاحب کا کہنا تھا:''امریکی یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ علوی بہتر تربیت یافتہ اور بہترین ہتھیاروں سے لیس ہیں۔ان کے پاس بہتر انجام کار تک لڑنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے''۔

اس روسی عہدے دار سے بشارالاسد نے ایک ملاقات میں کہا تھا کہ ''حسنی مبارک تو چلے گئے لیکن مصر باقی ہے۔اگر میں گیا تو شام باقی نہیں بچے گا''۔ اس روسی عہدے دار نے امریکی صدر براک اوباما کی جانب سے شامی حزب اختلاف کے قومی اتحاد کو عوام کا نمائندہ تسلیم کرنے پر حیرت کا اظہار کیا ہے اور اس کی مخالفت کی ہے۔