.

حُسنی مبارک جیل اسپتال کے غسل خانے میں گر کر زخمی

سینے اور سر میں چوٹیں آئیں: ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کے سابق صدر حسنی مبارک جنوبی قاہرہ کی مزرعہ طرہ جیل کی اسپتال کے بیت الخلا میں گر کر زخمی ہو گئے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق سابق صدر کے لڑکھڑانے اور زمین پر گرنے سے ان کے سر اور سینے سمیت جسم کے دیگر حصوں پر بھی زخم آئے ہیں۔



معزول صدر حسنی مبارک طرہ جیل میں 2011ء سے قید ہیں جہاں انہیں گذشتہ برس کے آغاز میں اپنے خلاف انقلاب برپا کرنے والے باغیوں کے قتل اور بدعنوانی جیسے الزمات کے تحت عمر قید کا سامنا ہے۔



ذرائع کا کہنا ہے کہ حسنی مبارک بیت الخلا میں داخل ہونے کے چند لمحے بعد وہ گر گئے۔ نگرانی پر مامور طبی عملے کو شبہ ہوا تو انہوں نے بیت الخلا کا دروازہ کھولا تو حسنی مبارک کو فرش پر گرے پایا۔ طبی عملے نے اُنہیں ایمبولینس کے ذریعے ایمرجنسی وارڈ منتقل کیا جہاں گرنے سے متاثرہ ہونے والے جسم کے حصوں کا معائنہ کیا گیا۔ الٹرا ساؤنڈ رپورٹس کے مطابق گرنے سے سابق صدر کے سر اور سینے میں چوٹیں آئی ہیں۔



تیس سال تک اقتدار کے مزے لوٹنے والے سابق مصری صدر حسنی مبارک اقتدار کے دنوں میں میں معمولی نوعیت کے امراض کا علاج بھی بیرون ملک کرانے پر سرکاری خزانے کے لاکھوں پاؤنڈ اڑایا دیا کرتے تھے۔ فروری 2011ء کو اقتدار سے علاحدگی کے بعد اب انہیں جیل اسپتال ہی میں علاج معالجے کے لئے لایا جاتا ہے۔ ان کی صحت کے حوالے سے متضاد اطلاعات آتی رہتی ہیں۔



مصر میں عوامی سطح پر یہ تاثر عام ہے کہ سابق صدر اپنی بیماری کا 'بہانہ' بنا کر جیل سے رہائی کی راہ تلاش کر رہے ہیں، تاہم اس حقیقت سےانکار نہیں کہ 82 سالہ محمد حسنی مبارک پیرانہ سالی کے ساتھ ساتھ اقتدار ہاتھ سے چلے جانے کے غم میں بھی نڈھال ہیں۔