.

شامباغی نواز فلسطینیوں کا اپنے مفرور لیڈر کی گرفتاری کا مطالبہ

فلسطینی کیمپ پر باغیوں کے کنٹرول کی متضاد اطلاعات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شام سے تعلق رکھنے والی فلسطینی مہاجرین کی جماعت پاپولر فرنٹ برائے آزادیٔ فلسطین (پی ایف ایل پی) کے منحرفین نے اس جماعت کے لیڈر احمد جبریل کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

احمد جبریل شامی صدر بشارالاسد کی حمایت کرتے چلے آ رہے ہیں۔ وہ اوران کے حامی فلسطینی مہاجرین شامی فوج کے شانہ بشانہ باغی جنگجوؤں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

وہ شام کے دارالحکومت دمشق کے نزدیک واقع فلسطینی مہاجرین کے کیمپ یرموک میں صدربشارالاسد کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان بارہ روز تک جاری رہی جھڑپوں کے بعد وہاں سے کہیں اور چلے گئے تھے۔ان جھڑپوں میں شام کے باغی جنگجوؤں نے فلسطینی جنگجوؤں کے ایک بریگیڈ کے ساتھ مل کر صدر اسد کے حامیوں کوشکست دینے کے بعد کیمپ کا کنٹرول حاصل کرلیا تھا۔

ان کی جماعت کے منحرفین کا دعویٰ ہے کہ احمد جبریل اپنے بیٹے کے ساتھ یرموک کیمپ سے شام کے ساحلی شہر طرطوس چلے گئے ہیں۔یہ شہر صدر بشارالاسد کی علوی کمیونٹی کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نے پاپولر فرنٹ برائے آزادیٔ فلسطین کے ایک ذریعے کے حوالے اس اطلاع کی تردید کی ہے کہ شامی باغیوں نے کیمپ پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔تاہم باغیوں اور فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ایف ایل پی کی صفوں میں انتشار پیدا ہوگیا ہے اور اس کے کارکنان کی بڑی اکثریت منحرف ہو کر باغیوں کے ساتھ مل گئی ہے۔

احمد جبریل کی قیادت میں اس جماعت نے شامی حکومت کے خلاف گذشتہ سال مارچ سے جاری عوامی احتجاجی تحریک کے دوران صدر بشارالاسد کے ساتھ اپنے مضبوط تعلقات برقرار رکھے ہیں جبکہ اس کے برعکس فلسطین کی بڑی سیاسی اور مزاحمتی تنظیم حماس کی قیادت دمشق میں موجود اپنے ہیڈکوارٹرز کو بڑی خاموشی سے بند کرکے قطر یا دوسرے ممالک میں منتقل ہوگئی ہے۔