.

مصر ریفرینڈم کے پہلے مرحلے میں آئین کی منظوری کے اشارے

اخوان کا غیر حتمی نتائج کی بنیاد پر کامیابی کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر میں ہفتے کے روز منعقدہ آئینی ریفرینڈم کے غیر حتمی نتائج کے مطابق اکسٹھ فی صد ووٹروں نے نئے دستور کے حق میں ووٹ دیا ہے جبکہ اڑتیس اعشاریہ سات فی صد نے اس کی مخالفت کی ہے۔

العربیہ ٹی وی نے نئے دستور کے حامی اور مخالف دھڑوں کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے حوالے سے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ اب تک کل ڈالے گئے ووٹوں میں سے اٹھاون فی صد کی گنتی مکمل ہوچکی ہے اور مصریوں نے اسلام پسندوں کے وضع کردہ آئین کی معمولی اکثریت سے منظوری دے دی ہے۔

آئین پر ریفرینڈم کے دوسرے مرحلے کے لیے پولنگ آیندہ ہفتے کے روز ہوگی اور اس کے بعد حتمی سرکاری نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔صدر محمد مرسی کی سابق جماعت اور ان کی سب سے بڑی حامی اخوان المسلمون اور مصری میڈیا کے مرکزی ذرائع نے غیر سرکاری نتائج کے حوالے سے بتایا ہے کہ ساٹھ فی صد ووٹروں نے آئین کے مسودے کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

اخوان المسلمون کے سیاسی چہرہ آزادی اور انصاف پارٹی کے ایک سنئیر عہدے دار نے ایک غیرملکی خبررساں ادارے کو بتایا کہ ریفرینڈم میں چھپن اعشاریہ پانچ ووٹروں نے آئین کے حق یعنی ہاں میں ووٹ دیا ہے۔انھوں نے مزید بتایا کہ یہ نتائج ننانوے فی صد پولنگ اسٹیشنوں میں ڈالے گئے ووٹوں پر مبنی ہیں۔

دوسری جانب حزب اختلاف نے پہلے مرحلے کے ابتدائی نتائج کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ چھیاسٹھ فی صد ووٹروں نے مجوزہ آئین کو مسترد کردیا ہے۔اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ اخوان المسلمون انتخابی نتائج میں ردوبدل کی کوشش کر رہی ہے۔.

ریفرینڈم کے انعقاد سے قبل صدر محمد مرسی کے حامیوں اور ان کے مخالفین کے درمیان کئی روز پرتشدد مظاہروں کے دوران جھڑپیں ہوئی تھیں لیکن ہفتے کے روز پہلے مرحلے کی پولنگ مجموعی طور پر پُرامن رہی تھی اور صرف دو ایک واقعات ہی پیش آئے ہیں۔ قاہرہ اور دوسرے شہروں میں رائے شماری کے دوران ووٹروں کی لمبی لمبی قطاریں دیکھی گئی تھیں۔