.

امریکا نے سابق لبنانی وزیر کو عالمی دہشت گرد قرار دے دیا

اثاثے منجمد،امریکیوں سے کاروبار پر پابندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
امریکا نے لبنان کے سابق وزیراطلاعات میشال سماحہ کو شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کو اپنے ملک پر حملے کی شہ دینے اور اس کی معاونت کرنے کے جرم میں ''خصوصی عالمی دہشت گرد''قرار دے دیا ہے۔

امریکا کے محکمہ خزانہ کے انڈر سیکرٹری برائے دہشت گردی اور مالیاتی انٹیلی جنس ڈیوڈ کوہن نے سوموار کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ''امریکا شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کی جانب سے پڑوسی ممالک کے داخلی امور میں مداخلت اور خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے کوششوں کو بے نقاب کرتا رہے گا''۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ''ہم اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر لبنان کی خود مختاری کے احترام کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے''۔

چونسٹھ سالہ سماحۃ لبنان کے علاوہ کینیڈا کے بھی شہری ہیں۔انھیں امریکا کے محکمہ خارجہ نے عالمی دہشت گرد قرار دیا ہے اور محکمہ خزانہ نے ان پر اقتصادی پابندیاں عاید کی ہیں۔ان کے تحت امریکا میں ان کے اثاثے منجمد کرلیے گئے ہیں اور امریکی شہریوں اور کمپنیوں کو ان کے ساتھ کاروبار یا لین دین سے منع کردیا گیا ہے۔

محکمہ خزانہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ میشال سماحۃ نے مبینہ طور پر شام کے قومی سلامتی بیورو کے سربراہ علی مملوک سے مل کر لبنان میں جولائی 2012ء میں بم دھماکوں کی ایک سازش تیار کی تھی اور اس مقصد کے لیے علی مملوک نے مسٹر سماحۃ کو رقم اور دھماکا خیز مواد مہیا کیا تھا۔

واضح رہے کہ شامی حکومت کے قریب سمجھے جانے والے سابق وزیراطلاعات ميشال سماحة اور ان کے دو شامی ساتھیوں کو نو اگست کو گرفتار کیا گیا تھا اور ان سے تفتیش کے بعد ان پر بم حملوں کی سازش کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی تھی۔اس وقت وہ لبنان میں زیرحراست ہیں۔

لبنان کے فوجی پراسیکیوٹر نے فرد جرم میں میشال سماحۃ ،شامی فوج کے کرنل علی عدنان اور شام کے نیشنل سکیورٹی بیورو کے سربراہ جنرل علی مملوک پر ایک مسلح گینگ تشکیل دینے کا الزام عاید کیا تھا۔اس گینگ نے شامیوں کے تیار کردہ بموں کے لبنان کے مختلف علاقوں میں دھماکے کرنا تھے اور اس سازش کا مقصد لبنان میں فرقہ وارانہ تشدد کو ہوا دینا اور ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنا تھا۔

لبنان کی داخلی سکیورٹی فورسز کی تحقیقات کے نتیجے میں سابق وزیراطلاعات کی گرفتاری عمل میں آئی تھی۔ لبنان کے ایک سکیورٹی ذریعے کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں سے بیس بم تیار حالت میں برآمد ہوئے تھے اور انھیں ریموٹ کے ذریعے اڑایا جانا تھا لیکن ماہرین نے ان کو بروقت ناکارہ بنا دیا تھا۔ان بموں سے شمالی لبنان کو نشانہ بنایا جانا تھا۔اس علاقے میں زیادہ تر عیسائی ،سنی مسلمان اور علوی رہ رہے ہیں۔

فرد جرم میں کہا گیا تھا کہ''اس بم سازش کا ہدف لبنان کی سیاسی اور مذہبی شخصیات تھیں''۔میشال سماحۃ نے سکیورٹی فورسز کی تفتیش کے دوران اس سازش کا اعتراف کیا تھا۔اس شام نواز سیاست دان کا کہنا تھا کہ ''ہم میں سے جو لوگ شامی حکومت کا دفاع کررہے تھے،ان کے لیے یہ ایک بہت بڑا دھچکا ہے''۔

ميشال سماحة لبنان کے سابق وزیراعظم الیاس الہراوی کے دورِ حکومت میں 1992ء سے 1995ء تک وزیراطلاعات رہے تھے۔ اس کے بعد وہ مقتول وزیراعظم رفیق حریری کے دورِ حکومت میں 17 اپريل 2003ء سے 26 اكتوبر 2004ء تک دوبارہ اسی منصب پر فائز رہے تھے۔ یاد رہے کہ 2007ء میں وائٹ ہاؤس نے مسٹر ميشال سماحة کا نام ان لبنانی اور شامی شخصیات کی فہرست میں شامل کیا تھا جو لبنان اور اس وقت اس کی مغرب کی حمایت یافتہ حکومت کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے کام کر رہے تھے۔