.

شامی بحران کے حل کے لئے منفرد ترک منصوبہ روس کو پیش

ترک اخبار ریڈیکل نے منصوبے کے خدوخال شائع کر دیئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
ترکی نے شام میں پرامن انتقال اقتدار کا نیا بلیو پرنٹ روس کو پیش کیا ہے، جسے ترک اخبار کے بہ قول ماسکو نے 'ندرت کا نمونہ' قرار دیا ہے۔

اس منصوبے کے مطابق شامی صدر بشار الاسد سن 2013 کی پہلی سہ ماہی میں اقتدار سے الگ ہو جائیں گے۔ عبوری دور کے لئے اقتدار قومی اتحاد سنبھالے گا جسے ابتک دنیا کے سو ممالک شامی عوام کا قانونی نمائندہ تسلیم کر چکے ہیں۔ گزشتہ ہفتے شامی قومی اتحاد کو 'دوستان شام' نامی گروپ نے بھی شامی عوام کا نمائندہ تسلیم کر لیا۔

ترک اخبار 'ریڈیکل' کے مطابق وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن نے شام میں پرامن انتقال اقتدار کا نیا منصوبہ تین دسمبر کو روسی صدر ولادی میر پوتن کو ان کے دورہ استنبول کے موقع پر پیش کیا۔ روسی رہنما نے منصوبے کے خدوخال کو 'ندرت کا نمونہ' قرار دیا۔ اخبار نے مزید بتایا کہ حالیہ چند دنوں سے اس نئے منصوبے پر امریکا، روس، مصر، قطر اور اقوام متحدہ غور کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری بین کی مون نے 7 دسمبر کو ترکی کے دورہ کے موقع پر بتایا تھا کہ انہیں پوتن۔ایردوآن سمٹ ملاقات میں زیر بحث آنے والے نئی تجاویز کا علم ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان یو این کے توسط سے تبادلہ خیال کیا جائے گا تاکہ بین الاقوامی اتفاق رائے حاصل کیا جا سکے۔