.

شامی رجیم جنگ جیتنےکی صلاحیت نہیں رکھتا نائب صدر

بحران کے خاتمے کے لیے تاریخی حل کی ضرورت ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شام کے نائب صدر فاروق الشرع نے کہا ہے کہ صدر بشار الاسد کی وفادار فورسز اور حزب اختلاف کے جنگجوؤں میں سے کوئی بھی جنگ جیتنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

انھوں نے یہ بات ایک لبنانی روزنامے سے انٹرویو میں کہی ہے۔ان کا یہ انٹرویو سوموار کو شائع کیا گیا ہے۔فاروق الشرع نے کہا کہ ملک میں صورت حال روز بروز بد سے بدترین ہوتی جارہی ہے اوربحران کے خاتمے کے لیے ایک تاریخی حل کی ضرورت ہے۔اس کے تحت وسیع تر اختیارات کی حامل قومی اتحاد کی حکومت تشکیل دی جانی چاہیے۔

نائب صدر نے ملک میں جاری خانہ جنگی کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ ''حزب اختلاف عسکری میدان میں جنگ جیتنے کی پوزیشن میں نہیں اور سرکاری سکیورٹی فورسز یا فوج بھی فیصلہ کن کامیابی حاصل نہیں کرسکتی ہے''۔

شامی صدر بشار الاسد کی حکومت میں سب سے بڑےعہدے پر فائز سنی نائب صدر کا کہنا تھا کہ ''ہر گزرتے دن کے ساتھ ہم فوجی یا سیاسی حل سے دور ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ ہمیں شام کی سالمیت کا دفاع کرنا چاہیے۔ہم کسی فرد یا رجیم کے لیے جنگ نہیں کر رہے ہیں''۔

انھوں نے کہا کہ ''حزب اختلاف کی مختلف قوتیں، خواہ وہ مسلح ہوں یا سویلین یا غیر ملکی قوتوں سے وابستہ ہوں،شامی عوام کی حقیقی نمائندہ ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتی ہیں''۔وہ بعض عرب اور مغربی طاقتوں کی جانب سے گذشتہ ہفتے مسلح حزب اختلاف کو شامی عوام کا حقیقی نمائندہ تسلیم کرنے کے فیصلے کا حوالہ دے رہے تھے۔

گذشتہ سال جولائی کے بعد فاروق الشرع کا یہ پہلا بیان ہے۔شامی حکومت کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ نائب صدر سمیت سیاستدانوں کا ایک گروپ حزب اختلاف کے ساتھ مذاکرات کا حامی تھا اور اس نے پُرامن مظاہروں سے حکومت کے خلاف شروع ہونے والی عوامی احتجاجی تحریک کو کچلنے کے لیے فوجی کریک ڈاؤن کی مخالفت کی تھی۔

حزب اختلاف کے ذرائع کا کہنا ہے کہ نائب صدر کو صدر بشار الاسد کے وفادارون نے ان کے گھر میں نظربند کررکھا ہے اور حزب اختلاف کے کارکنان اس سال کے دوران متعدد مرتبہ ان کے منحرف ہونے کے دعوے کر چکے ہیں لیکن وہ ابھی تک حکومت کے ساتھ ہیں۔