.

صدر بشار الاسد نے شہریوں کے قتل کا حکم دیا تھا منحرف کرنل

احتجاجی تحریک دبانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شامی فوج کے ایک منحرف کرنل کا کہنا ہے کہ صدر بشار الاسد نے بہ ذات خود اپنے خلاف مظاہروں اور احتجاجی تحریک کو کچلنے کے لیے شہریوں کو قتل کرنے سمیت تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کا حکم دیا تھا۔

شامی فوج کے منحرف کرنل عناد العباس نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ صدر بشارالاسد کے ذاتی دفتر کو روزانہ رات کو رپورٹ پیش کی جاتی تھی۔ کرنل عباس شام کی وزارت داخلہ میں تعینات تھے اور وہ ملک کی تمام چودہ گورنریوں کے پولیس ہیڈکوارٹرز سے ملنے والے ڈیٹا کی مدد سے رپورٹس مرتب کیا کرتے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ شامی صدر کو بھیجی جانے والی رپورٹس ان کے کمنٹس کے ساتھ وزارت داخلہ کو واپس بھیج دی جاتی تھی۔ان میں یہ ہدایت کی جاتی تھی کہ مظاہروں کو تمام ذرائع سے کچل دیا جائے۔

ان کے بہ قول جب شام بھر سے تعلق رکھنے والے پولیس سربراہان نے اس حکم نامے کے عملی اطلاق کے بارے میں سوال کیا کہ اس سے کیا مراد ہے تو انھیں وزیر داخلہ ابراہیم الشعار نے بتایا کہ ''اس سے مراد قتل سمیت تمام ذرائع ہیں''۔

کرنل عناد العباس جولائی 2012ء میں شامی فوج سے منحرف ہوکر باغیوں کے ساتھ مل گئے تھے۔اس وقت وہ مغربی گورنری حماہ کے شہر سلامیہ میں خدمات انجام دے رہے تھے۔

انھوں نے العربیہ سے شامی حکومت کی مظاہرین کو کچلنے کے لیے اختیار کردہ پالیسیوں کے بارے میں تفصیل سے گفتگو کی ہے اور بتایا کہ شامی حکومت یہ باور کرانے کی کوشش کرتی رہی ہے کہ ملک میں جاری مزاحمت کو دہشت گرد اور بنیاد پرست ہوا دے رہے ہیں۔وہ جب شام کے مستقبل کے حوالے سے العربیہ سے گفتگو کر رہے تھے تو ان کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔