.

مصر ججز کلب کا آئینی ریفرینڈم کے دوسرے مرحلے کا بائیکاٹ

دستوری عدالت عظمیٰ کے باہر دھرنا ختم کرانے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کی انتظامی ریاستی کونسل کے ججز کلب نے بائیس دسمبر کو نئے آئین پر ہونے والے ریفرینڈم کے دوسرے مرحلے کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ججز کلب کے سربراہ حامدی یاسین نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''حکومت ریفرینڈم کی نگرانی کرنے والے کمیٹی کے ہیڈکوارٹرز کے علاوہ پولنگ کمیٹیوں اور سرکاری عمارتوں کو تحفظ مہیا کرے''۔

انھوں نے کہا کہ حکومت سپریم آئینی عدالت کے باہر صدر محمد مرسی کے حامیوں کے دھرنے کو بھی ختم کرائے۔واضح رہے کہ صدر مرسی کے بعض حامیوں نے دو دسمبر سے سپریم دستوری عدالت کے باہر دھرنا دے رکھا ہے۔

مصر کے ججز کلب کی جانب سے ریفرینڈم کے دوسرے مرحلے کے بائیکاٹ کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آئینی ریفرینڈم پر پہلے مرحلے کی پولنگ کے غیرحتمی اور غیر سرکاری نتائج سامنے آچکے ہیں اور اسلامی جماعتوں نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر محمد مرسی ملک کے نئے آئین پر عوام کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔

مصری صدر کی مخالف جماعتوں نے ان کی حکومت پر دھاندلیوں کے الزامات عاید کیے ہیں اور حزب اختلاف کے قومی محاذ آزادی نے عوام سے منگل کو مظاہروں کی اپیل کی ہے اور ان سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ آیندہ ہفتے کے روز دوسرے مرحلے کی پولنگ میں آئین کو مسترد کر دیں۔

محاذ کے رابطہ کار محمد البرادعی نے ایک مرتبہ پھر صدر محمد مرسی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ریفرینڈم کو منسوخ کردیں اور حزب اختلاف کے ساتھ بحران کے حل کے لیے مذاکرات کریں۔

مصر میں ہفتے کے روز منعقدہ آئینی ریفرینڈم کے غیر حتمی نتائج کے مطابق چھپن اعشاریہ پانچ فی صد فی صد ووٹروں نے نئے دستور کے حق میں ووٹ دیا ہے جبکہ تینتالیس اعشاریہ پانچ فی صد نے اس کی مخالفت کی ہے۔

آئین پر ریفرینڈم کے دوسرے مرحلے کے لیے پولنگ آیندہ ہفتے کے روز ہوگی اور اس کے بعد حتمی سرکاری نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔صدر محمد مرسی کی سابق جماعت اور ان کی سب سے بڑی حامی اخوان المسلمون اور مصری میڈیا کے مرکزی ذرائع نے غیر سرکاری نتائج کے حوالے سے بتایا کہ ساٹھ فی صد ووٹروں نے آئین کے مسودے کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

اخوان المسلمون کے سیاسی چہرہ آزادی اور انصاف پارٹی کے ایک سنئیر عہدے دار نے ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ریفرینڈم میں چھپن اعشاریہ پانچ فی صد ووٹروں نے آئین کے حق یعنی ہاں میں ووٹ دیا ہے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ یہ نتائج ننانوے فی صد پولنگ اسٹیشنوں میں ڈالے گئے ووٹوں پر مبنی ہیں۔

دوسری جانب حزب اختلاف نے اخوان المسلمون پر انتخابی نتائج میں ردوبدل اور دھاندلیوں کے الزامات عاید کئے ہیں۔ ریفرینڈم کے انعقاد سے قبل صدر محمد مرسی کے حامیوں اور ان کے مخالفین کے درمیان کئی روز پرتشدد مظاہروں کے دوران جھڑپیں ہوئی تھیں لیکن ہفتے کے روز پہلے مرحلے کی پولنگ مجموعی طور پر پُرامن رہی تھی اور صرف دوایک واقعات ہی پیش آئے ہیں۔قاہرہ اور دوسرے شہروں میں رائے شماری کے دوران ووٹروں کی لمبی لمبی قطاریں دیکھی گئی تھیں۔