.

دمشق کے پاس اسرائیلی ایٹمی اسلحے کے برابر کیمیائی ہتھیار ہیں منحرف جنرل

دہشت گردوں کی جانب سے کیمیائی اسلحے کے استعمال کا خدشہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شامی فوج کے کیمیائی وارفیئر پروگرام کے سابق سربراہ میجر جنرل عندنان سلو نے خبردار کیا ہے کہ شامی حکومت کے پاس اسرائیلی ایٹمی اسلحہ کے مساوی کیمیائی ہتھیار موجود ہیں۔ انہوں نے العربیہ سے بات کرتے ہوئے ان شہروں کی تفصیل بھی بیان جہاں یہ کیمیائی اسلحہ چھپا کر رکھا گیا ہے۔

ادھر گولان کی پہاڑیوں میں تعنیات یو این بین الاقوامی امن فوج بھی ممکنہ طور پر کیمیائی اسلحہ کے استعمال سے پیدا ہونے والی صورتحال کے مقابلے کی تیاری کر رہی ہے۔ العربیہ کو یو این میں شام کے مستقبل مندوب بشار الجعفری کا سیکیورٹی کونسل کے نام 10 دسمبر کو تحریر کردہ ایک خط بھی ملا ہے جس میں انہوں نے خبردار کیا تھا کہ دہشت گرد شام میں موجود کیمیائی اسلحہ استعمال کر سکتے ہیں۔

اپنے خط میں بشار الجعفری نے متنبہ کیا کہ دہشت گردوں کی حمایت کرنے والے ملک انہیں کیمیائی اسلحہ فراہم کر سکتے ہیں۔ نیز انہوں نے ترک اخبارات میں شائع ہونے والی رپورٹس کا حوالہ دیا جن میں انکشاف کیا گیا تھا کہ القاعدہ کے جنگجو ترک شہر غازی عنتاب میں کیمیائی اسلحہ استعمال کی تیاری کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا تھا کہ شام کسی صورت میں کیمیائی اسلحہ استعمال نہیں کرے گا۔

ادھر امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے بشار الاسد حکومت کے خاتمے کی صورت میں کیمیائی اسلحہ محفوظ بنانے سے متعلق منصوبہ شائع کیا ہے۔ اس مقصد کے لئے دو منظر بیان کئے گئے ہیں۔ پہلی صورت میں شامی حکومت خود کیمیائی اسلحہ استعمال کر سکتی ہے۔

بہ قول جنرل سلو ایسی صورت حال پر قابو پانے کے لئے ایک ہزار ماہر فوج کو تربیت دیکر کیمیائی اسلحہ گوداموں کے اردگرد تعینات کیا جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ بشار الاسد سے علاحدگی سے پہلے جنرل سلو شامی فوج میں کیمیائی وارفیئر ٹریننگ پروگرام سے وابستہ تھے۔

کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ حکومت کے خاتمے پر یہ اسلحہ دہشت گردوں کے ہاتھ جا لگے اور وہ اسے ناتجربہ کاری سے استعمال کریں، جس سے بڑے پیمانے پر تباہی پھیل سکتی ہے۔ اس صورتحال سے بچنے کے لئے امریکا کے پیش نظر 75 ہزار افراد پر مشتمل فوج کا قیام ہے کہ جو بشار الاسد کے اقتدار کو ڈانواں ڈول دیکھ کر تیار فوجی دستوں کو متحرک کر دے۔