.

شام جیش الحر کا فلسطینی مہاجرین کے کیمپ پر قبضہ

سرکاری فوج کی کیمپ پر بمباری کے دو روز بعد کارروائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شام کے دارالحکومت دمشق کے نواح میں واقع فلسطینی مہاجر کیمپ پر سرکاری فوج کی بمباری کے دو روز بعد باغی جنگجوؤں اور فوجیوں پر مشتمل جیش الحر نے قبضہ کر لیا ہے۔

فلسطینی مہاجرین کے کیمپ یرموک میں صدر بشار الاسد کے وفادار فوج اور ان کے مخالفین کے درمیان گذشتہ قریباً دو ہفتوں سے لڑائی جاری تھی اور شامی فوج نے اتوار کو اس کیمپ پر بمباری کی تھی۔ باغی جنگجوؤں نے کیمپ سے تعلق رکھنے والے فلسطینی جنگجوؤں کے ایک بریگیڈ کے ساتھ مل کر صدر اسد کے حامیوں کو شکست دے دی ہے اور کیمپ کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

شام میں مقیم فلسطینی مہاجرین کی ایک جماعت پاپولر فرنٹ برائے آزادیٔ فلسطین (پی ایف ایل پی) کے لیڈر احمد جبریل دو روز پہلے کیمپ چھوڑ کر کہیں اور چلے گئے تھے اور ان کے مخالفین نے ان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ احمد جبریل شامی صدر بشار الاسد کی حمایت کرتے چلے آ رہے ہیں۔

وہ اور ان کے حامی فلسطینی مہاجرین شامی فوج کے شانہ بشانہ باغی جنگجوؤں کے خلاف لڑ رہے تھے۔ اب باغیوں اور فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ایف ایل پی کی صفوں میں انتشار پیدا ہو گیا ہے اور اس کے کارکنان کی بڑی تعداد منحرف ہو کر باغیوں کے ساتھ مل گئی ہے۔

شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق شامی فوج کے ایک جنگی طیارے نے کیمپ یرموک پر اتوار کو بمباری کی تھی۔اس کے نتیجے میں پچیس افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔فلسطینی صدر محمود عباس نے مہاجر کمپ پر شامی فوج کی بمباری کی مذمت کی تھی اور شام کے تمام فریقوں پر زور دیا تھا کہ وہ فلسطینیوں کو اپنی لڑائی میں کھینچنے سے گریز کریں۔