.

صدر جلال طالبانی اسپتال میں زندہ ہیں عراقی وزیر خارجہ

کرد صدر کی دل کا دورہ پڑنے کے بعد حالت تشویش ناک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
عراق کے صدر جلال طالبانی کی حالت دل کے دورہ کے بعد تشویش ناک ہے اور ڈاکٹر ان کی صحت بحال کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔عراقی وزیر خارجہ ہوشیار زیباری نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ صدر طالبانی زندہ ہیں اور ان کی حالت بہتر ہو رہی ہے۔

عراقی حکومت کے ذرائع نے بتایا کہ صدر جلال طالبانی کو سوموار کی رات دل کا دورہ پڑنے کے بعد اسپتال منتقل کر دیا گیا تھا۔ ان کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق اناسی سالہ کرد صدر کو بغداد کے ایک اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ ان کی شریانیں بند ہو گئی تھیں لیکن ابتدائی علاج کے بعد اب ان کی حالت بہتر ہے۔

وزیر اعظم نوری المالکی نے منگل کو اسپتال میں صدر طالبانی کی خیریت دریافت کی ہے۔ اس سال کے آغاز سے ان کی صحت خراب چلی آ رہی ہے اور گذشتہ دو سال کے دوران وہ متعدد مرتبہ علاج کے لیے بیرون ملک گئے تھے۔

علیل صدر ایک کہنہ مشق اور جہاندیدہ سیاست دان ہیں۔ وہ اپنے ابتدائی سیاسی دور میں عراق کے شمالی علاقے کردستان میں مسلح تحریک کا حصہ بھی رہے تھے۔ وہ سابق مصلوب صدر صدام حسین کے دور میں جلا وطنی کی زندگی گزار چکے ہیں۔ انھوں نے صدر بننے کے بعد عراق کی سیاست میں ایک مصالحت کار کا کردار ادا کیا ہے۔ حال ہی میں انھوں نے عراقی وزیر اعظم نوری المالکی اور خودمختار کردستان کے صدر مسعود بارزانی کے درمیان تنازعے کو ختم کرانے اور ان میں مصالحت کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔