.

مصر اداکارہ کی توہین پر ٹی وی شیخ کو ایک سال قید کی سزا

اداکارہ کے خلاف سخت بیان بازی پر عالم دین پر مقدمے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کی ایک عدالت نے جامعہ الازہر سے تعلق رکھنے والے عالم دین عبداللہ بدر کو ملک کی معروف اداکارہ الہام شاہین کی توہین کے الزام میں مجرم قرار دے کر ایک سال قید اور بیس ہزار مصری پاؤنڈز جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

عبداللہ بدر جامعہ الازہر میں قرآن کی تفسیر کے پروفیسر ہیں۔ انھوں نے اپنی تقریر میں الہام شاہین پر اپنی فلموں میں غیر شائستہ حرکات اور بھڑکیلا لباس پہننے کا الزام عاید کیا تھا جس سے ان کے بہ قول غیر اخلاقی طرز عمل کو شہ مل سکتی ہے۔

انھوں نے مصر کے الحافظ ٹی وی چینل سے نشر ہونے والے اپنے شو میں اداکارہ الہام شاہین پر تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ وہ جنت میں داخل نہیں ہوں گی۔ ان کے اس بیان کے ردعمل میں الہام شاہین نے عبداللہ بدر اور چینل کے سربراہ عاطف عبدالراشد کے خلاف ہتک عزت، نقض امن، افراتفری پھیلانے اور توہین مذہب کے الزام میں مقدمہ دائر کر دیا تھا۔

روزنامہ الاہرام میں منگل کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق مصری اداکارہ نے عالم دین پر الزام عاید کیا تھا کہ انھوں نے ان پر میڈیا میں حملہ کیا ہے اور انھوں نے ملک میں جاری اسلامی لہر کے پیش نظر اپنے بعض خدشات کا اظہار کیا تھا۔ اس اداکارہ نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ انتخابات میں اسلامی جماعتوں کو ووٹ نہیں دیں گی۔

ایک مصری روزنامے نے ستمبر میں اطلاع دی تھی کہ صدر محمد مرسی نے اپنے ترجمان کو الہام شاہین کو فون کرنے کے لیے کہا تھا اور اداکارہ کو اپنی حمایت کا یقین دلایا تھا۔ صدر مرسی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ کسی کی ہتک عزت کرنے کے مخالف ہیں اور جس کسی پر بھی اس کا الزام لگا، اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

عدالت میں مقدمے کی سماعت کے دوران مصر کے ایکٹرز سینڈیکیٹ کے سربراہ اشرف عبدالغفور نے کہا تھا کہ انھیں پروفیسر عبداللہ بدر کے الہام شاہین کے خلاف بیانات پر حیرت ہوئی تھی اور اس سے اداکارہ کو نفسیاتی طور پر صدمہ پہنچا تھا۔ واضح رہے کہ حالیہ مہینوں کے دوران مصر کی بعض اداکاراؤں نے علماء کے خلاف ان کے بیانات پر ہتک عزت کے مقدمات دائر کیے ہیں۔