.

مصر حزب اختلاف کے آئینی ریفرینڈم میں دھاندلی کے خلاف مظاہرے

اپوزیشن کے احتجاج کے بعد پراسیکیوٹر جنرل مستعفی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں صدر محمد مرسی کی مخالف سیاسی جماعتوں کےکارکنان ملک کے مجوزہ دستور کے خلاف آج منگل کو احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں۔

حزب اختلاف کے اتحاد نیشنل سالویشن فرنٹ (قومی محاذ آزادی) نے مصریوں سے اپنی آزادیوں کے تحفظ اور فراڈ کو روکنے کے لیے صدارتی محل اور میدان التحریر میں مجوزہ آئین کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں بھرپور شرکت کی اپیل کی ہے۔ اتحاد نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ آیندہ ہفتے کے روز آئینی ریفرینڈم پر دوسرے مرحلے کی پولنگ میں مجوزہ مسودے کو مسترد کر دیں۔

حزب اختلاف نے ریفرینڈم کے پہلے مرحلے کی پولنگ میں وسیع پیمانے پر بے ضابطگیوں اور خلاف ورزیوں کا دعویٰ کیا ہے۔ محاذ آزادی کے ترجمان محمد البرادعی نے ایک مرتبہ پھر صدر محمد مرسی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ریفرینڈم کو یکسر منسوخ کر دیں اور بحران کے حل کے لیے حزب اختلاف کے ساتھ مذاکرات کریں۔

مصر کی انتظامی ریاستی کونسل کے ججز کلب نے گذشتہ روز بائیس دسمبر کو نئے آئین پر ہونے والے ریفرینڈم کے دوسرے مرحلے کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا تھا۔ ججزکلب نے مطالبہ کیا تھا:''حکومت ریفرینڈم کی نگرانی کرنے والے کمیٹی کے ہیڈکوارٹرز کے علاوہ پولنگ کمیٹیوں اور سرکاری عمارتوں کو تحفظ مہیا کرے اور سپریم آئینی عدالت کے باہر صدر محمد مرسی کے حامیوں کے دھرنے کو بھی ختم کرائے''۔

درایں اثناء آج یہ اطلاع سامنے آئی ہے کہ مصر کے پراسیکیوٹر جنرل نے مظاہرین کے دباؤ کے بعد صدر محمد مرسی کو اپنا استعفیٰ پیش کر دیا ہے۔ایک ذریعے نے بتایا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل آیندہ اتوار کو ریفرینڈم کے دوسرے مرحلے کے لیے پولنگ کے بعد پراسیکیوٹر جنرل طلعت ابراہیم کے استعفے کا جائزہ لے گی۔

مصر میں گذشتہ ہفتے کے روز منعقدہ آئینی ریفرینڈم کے غیر حتمی نتائج کے مطابق قریباً ستاون فی صد ووٹروں نے نئے دستور کے حق میں ووٹ دیا ہے جبکہ تینتالیس فی صد نے اس کی مخالفت کی ہے۔آئین پر ریفرینڈم کے دوسرے مرحلے کے لیے پولنگ آیندہ ہفتے کے روز ہو گی اور اس کے بعد حتمی سرکاری نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔