.

شام سے فلسطینیوں کی واپسی کے لیے عالمی مدد کی اپیل

اقوام متحدہ مہاجرین کی جانب مدد کا ہاتھ بڑھائے:محمود عباس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
فلسطینی صدر محمد عباس نے کہا ہے کہ شام میں جاری خانہ جنگی کے پیش نظر وہاں مہاجر کیمپوں میں مقیم فلسطینیوں کو مغربی کنارے اور غزہ میں لانے کے لیے عالمی مدد درکار ہے۔

فلسطینی صدر نے اقوام متحدہ پر زوردیا ہے کہ وہ شام کے دارالحکومت دمشق کے نواح میں واقع یرموک کیمپ میں مقیم فلسطینی مہاجرین کی جانب مدد کا ہاتھ بڑھائے جو شامی فوج اور باغی جنگجوؤں کے درمیان جاری لڑائی کے دوران وہاں پھنس کر رہ گئے ہیں۔

فلسطین کی سرکاری خبررساں ایجنسی وفا نے بدھ کو صدر محمود عباس کا ایک بیان جاری کیا ہے۔اس میں انھوں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون اور عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ شام میں مقیم ہمارے لوگوں کی فلسطینی علاقے میں داخلے میں مدد دیں۔

فلسطینی صدر کی جانب سے یہ اپیل یرموک کیمپ پر قبضے کے لیے شام کے باغی جنگجوؤں پر مشتمل جیش الحر اور سرکاری فوج کے درمیان قبضے کے لیے خونریز لڑائی کے بعد جاری کی گئی ہے۔متحارب قوتوں کے درمیان گذشتہ قریباً دوہفتوں سے جاری لڑائی کے نتیجے میں ہزاروں فلسطینی اپنا گھربار چھوڑ کر یرموک کیمپ سے چلے گئے ہیں۔

یرموک کیمپ پر اتوار کو شامی فوج نے بمباری کی تھی جس کے نتیجے میں آٹھ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔ صدرعباس اور غزہ کی پٹی کی حکمران جماعت حماس نے فلسطینی کیمپ پر حملے کی مذمت کی تھی اور انھوں نے فوری طور پر بمباری کا سلسلہ روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔

واضح رہےکہ شام میں فلسطینی مہاجرین کے بارہ کیمپ قائم ہیں۔اقوام متحدہ کے تحت فلسطینی مہاجرین کے مددگار ادارے ریلیف اور ورکس ایجنسی (انروا) کے مطابق شام کے مختلف علاقوں میں قائم نو سرکاری اور تین غیر سرکاری کیمپوں میں اس وقت چارلاکھ چھیاسی ہزار سے زیادہ فلسطینی رہ رہے ہیں۔

دمشق کے نواح میں واقع فلسطینی مہاجرین کے کیمپ یرموک میں صدربشارالاسد کی وفادار فوج اور ان کے مخالفین کے درمیان گذشتہ قریباً دوہفتوں سے لڑائی جاری ہے اور شامی فوج نے اتوار کو اس کیمپ پر بمباری کی تھی۔باغی جنگجوؤں نے گذشتہ روز کیمپ سے تعلق رکھنے والے فلسطینی جنگجوؤں کے ایک بریگیڈ کے ساتھ مل کر صدر اسد کے حامیوں کوشکست سے دوچار کرنے اور کیمپ پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ کیا تھا۔

شام میں مقیم فلسطینی مہاجرین کی ایک جماعت پاپولر فرنٹ برائے آزادیٔ فلسطین (پی ایف ایل پی) کے لیڈر احمد جبریل تین روز پہلے کیمپ چھوڑ کر کہیں اور چلے گئے تھے اور ان کے مخالفین نے ان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔احمد جبریل شامی صدر بشارالاسد کی حمایت کرتے چلے آ رہے ہیں۔صدر محمود عباس نے اپنے مذکورہ بالا بیان میں شام اور دوسری عرب ریاستوں میں مقیم فلسطینیوں پر زوردیا ہے کہ وہ میزبان ممالک کے داخلی امور میں مداخلت سے گریز کریں اور غیر جانبدار رہیں۔