.

مقبوضہ القدس میں 12 سال بعد نئی یہودی بستی کی تعمیر کی منظوری

2610 نئے مکانات کی تعمیر کا عمل جلد شروع ہو جائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اسرائیل کی ایک میونسپل کمیٹی نے عالمی برادری کی مخالفت کے باوجود مقبوضہ بیت المقدس کے نواح میں واقع ایک یہودی بستی میں دو ہزار چھے سو دس نئے مکانوں کی تعمیر کی منظوری دی ہے۔

''سٹی کونسل مین پی پی الالو'' نے امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس(اے پی) کو بدھ کو بتایا کہ میونسپل کمیٹی نے مشرقی بیت المقدس میں واقع یہودی بستی گیوات ہاموٹوس میں نئے مکانوں کی تعمیر کی منظوری دی ہے اور یہ اس بستی میں بارہ سال کے بعد پہلی تعمیرات ہوں گی۔

مقبوضہ بیت المقدس کے جنوب میں واقع اس علاقے میں موجودہ انتہا پسند اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے پہلے دور حکومت میں 1997ء میں تعمیرات کی گئی تھی۔اب اسرائیلی میونسپل کمیٹی نے منگل کو اس تعمیراتی منصوبے کی ابتدائی منظوری دی تھی۔اس کے بعد ایک طویل عمل شروع ہوگا اور چند ہفتوں یا مہینوں کے اندر وہاں تعمیرات کا آغاز کردیا جائے گا۔

یہودی بستیوں کی آبادکاری کی نگرانی کرنے والی اسرائیلی تنظیم ''اب امن'' کا کہنا ہے کہ نئے مکانوں کی تعمیر کی منظوری حتمی ہے۔اس کو آیندہ چند روز کے بعد شائع کردیا جائے گا اور پندرہ دن کا عرصہ گزرنے کے بعد ٹینڈروں کا اجراء شروع کردیا جائے گا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ گیوات ہاماٹوس کی تعمیر سے ایک بڑا مسئلہ پیدا ہوجائے گا اور اس سے مقبوضہ مشرقی بیت المقدس تک مغربی کنارے سے رسائی ختم ہو جائے گی۔فلسطینی مذاکرات کار محمد شطیہ نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کے اس اقدام کے بعد عالمی فوجداری عدالت سے اپیل کا عمل تیز کردیں گے۔

اسرائیل نے گذشتہ ماہ اقوام متحدہ میں فلسطین کو غیر مبصر ریاست کا درجہ ملنے کے بعد سے مقبوضہ مغربی کنارے میں متعدد یہودی بستیوں کی تعمیر کی منظوری دی ہے۔صہیونی ریاست نے مقبوضہ بیت المقدس اور مغربی کنارے میں گذشتہ ماہ یہودی آبادکاروں کے لیے تین ہزار نئے مکانوں کی تعمیر کا اعلان کیا تھا۔ایک اسرائیلی عہدے دار نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ فیصلہ فلسطین کو اقوام متحدہ میں غیر رکن ریاستی مبصر کا درجہ دینے کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔

امریکا نے اسرائیل کےاس اقدام پر کڑی تنقید کی ہے۔اس کے علاوہ برطانیہ اور فرانس نے بھی اسرائیل کے یہودی بستیوں کی تعمیر میں توسیع کے منصوبے کے خلاف سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون نے بھی خبردار کیا تھا کہ اگر اسرائیل نے یہودی بستیوں میں توسیع کے منصوبے پر عمل درآمد کیا تو اس کے فلسطینیوں کے ساتھ امن کے لیے بہت گہرے مضمرات ہوں گے۔

انھوں نے اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف حصوں اور بیت المقدس میں نئے مکانوں کی تعمیر کے اعلان پر گہری تشویش کا اظہار کیا تھا اور کہا تھاکہ یہودی بستیاں بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہیں۔بین کی مون کی جانب سے اسرائیل کے خلاف یہ غیرمعمولی سخت ردعمل تھا۔

اب تک مقبوضہ مغربی کنارے میں تین لاکھ سے زیادہ یہودی آبادکاروں کو بسایا جا چکا ہے جبکہ بائیس لاکھ مقامی فلسطینی اس علاقے میں رہ رہے ہیں۔ اسرائیل نے 1967ء کی جنگ میں مغربی کنارے،غزہ کی پٹی اور القدس پر قبضہ کیا تھا جس کے بعد اس نے دوسرے ممالک سے آنے والے یہودیوں کی فلسطینی علاقوں میں آبادکاری شروع کردی تھی۔