.

اسرائیل یہودی بستیوں کی تعمیر پر قابل احتساب ہوگافلسطینی مذاکرات کار

مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودیوں کی آبادکاری میں تیزی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
فلسطین کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے کہا ہے کہ اسرائیل مقبوضہ سرزمین پر نئی یہودی بستیوں کی تعمیر پر قابل احتساب ہوگا اور یہودی آباد کاروں سے بھی بازپرس ہوسکتی ہے۔

فلسطینی صدر محمود عباس کے ترجمان نبیل ابو رودینہ نے جمعرات کو یہ بیان اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کے لیے پانچ ہزار مکانوں پر مشتمل ایک نئے شہر کی تعمیر کے اعلان کے بعد جاری کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''یہودی آبادکاروں اور اسرائیلی حکومت کو یہ بات جان لینی چاہیے کہ وہ قابل احتساب ہوں گے''۔مقبوضہ مغربی کنارے میں آباد کاروں کی ایک مقامی کونسل نے بتایا ہے کہ اسرائیلی وزارت دفاع نے پہلے مرحلے میں یہودی بستی گیواوٹ میں پانچ سو سے زیادہ مکانات کی تعمیر کی منظوری دی ہے۔اس کونسل نے سن 2000ء میں دریائے اردن کے مغربی کنارے کے علاقے میں چھے ہزار سے زیادہ مکانوں کی تعمیر کے لیے منصوبہ پیش کیا تھا لیکن اس کی منظوری نہیں دی گئی تھی۔اب اسرائیلی حکام نے پہلے مرحلے میں پانچ سو تئیس مکانات تعمیر کرنے کی منظوری دی ہے۔

اسرائیل کی یہودیوں کی آبادکاری سے متعلق سرگرمیوں کی نگرانی کرنے والی تنظیم ''اب امن'' کا کہنا ہے کہ اس وقت اس نئی یہودی بستی کی جگہ پر چند ایک لوگ ہی رہ رہے ہیں لیکن اب وہاں پچیس ہزار کے لگ بھگ آبادکاروں کو بسایا جائے گا۔ یہ بہت بڑی بستی شہر کی طرح تو نہیں ہوگی لیکن اس میں یہودیوں کی بڑی تعداد سما سکے گی۔

اقوام متحدہ اوراس کی سلامتی کونسل نے اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کی سرزمین پر یہودی بستیوں کی تعمیر کے منصوبے کی مذمت کی ہے۔گذشتہ روز سلامتی کونسل کے بند کمرے کے اجلاس میں امریکی سفیر سوسان رائس نے دوسری طاقتوں کے نمائندوں کی طرح اسرائیل کی مخالفت تو نہیں کی لیکن انھوں نے یہودی آبادکاری کو ''اشتعال انگیز'' اقدام قرار دے کر اس کی مذمت کی ہے۔

اسرائیل نے گذشتہ ماہ اقوام متحدہ میں فلسطین کو غیر مبصر ریاست کا درجہ ملنے کے بعد سے مقبوضہ مغربی کنارے میں متعدد یہودی بستیوں کی تعمیر کی منظوری دی ہے۔صہیونی ریاست نے گذشتہ ماہ یہودی آبادکاروں کے لیے تین ہزار نئے مکانوں کی تعمیر کا اعلان کیا تھا۔ایک اسرائیلی عہدے دار نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ فیصلہ فلسطین کو اقوام متحدہ میں غیر رکن ریاستی مبصر کا درجہ دینے کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔