.

اسکندریہ اسلام پسندوں اور حزب اختلاف کے درمیان جھڑپیں، 70زخمی

اخوان کے زیر اہتمام ریلی میں ہزاروں افراد کی شرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کے دوسرے بڑے شہر اسکندریہ میں اسلامی جماعتوں نے علماء اور مساجد کے تحفظ کے نام پر ریلی نکالی ہے جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ہے۔ ان کے مقابلے میں حزب اختلاف کے کارکنان نے بھی مظاہرہ کیا اور ان دونوں گروہوں کے درمیان جھڑپوں میں ستر افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

العربیہ ٹی وی نے اسکندریہ میں اخوان المسلمون اور دوسری اسلامی جماعتوں کے کارکنان اور حزب اختلاف کے حامیوں کے ایک دوسرے پر پتھراؤ سے اڑسٹھ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع دی ہے۔ حکومت نے امن وامان برقرار رکھنے کے لیے پولیس کو فیصلہ کن کارروائی کا اختیار دے رکھا تھا اور اس نے متحارب دھڑوں کے درمیان لڑائی ختم کرانے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے۔

پولیس نے اسکندریہ میں متحارب دھڑوں سے تعلق رکھنے والے مظاہرین کو ایک دوسرے سے دور رکھنے کی غرض سے حد فاصل قائم کرنے کے لیے ایک بیرئیر لگا رکھا تھا لیکن اس کے باوجود ان کے درمیان ایک دوسرے پر پتھر پھینکنے کا مقابلہ ہوتا رہا اور بعض کے درمیان ایک مسجد کے نزدیک دوبدو لڑائی بھی ہوئی ہے۔

اس شہر میں گذشتہ جمعہ کو لبرل اور سیکولر حزب اختلاف نے ملک کے نئے مجوزہ آئین کے خلاف ریلی نکالی تھی اور اس دوران انھوں نے ایک عالم دین شیخ احمد المہلاوی کو ان کی مسجد میں چودہ گھنٹے تک محصور کیے رکھا تھا۔ ان کا قصور محض یہ تھا کہ انھوں نے اپنے مقتدیوں کو آئین کے حق میں ووٹ ڈالنے کے لیے کہا تھا۔

حزب اختلاف کے کارکنان کے ایک عالم دین سے اس ناروا سلوک کے خلاف اخوان المسلمون کے سیاسی چہرہ آزادی اور انصاف پارٹی ،سلفی تحریک کی النور ،اصالہ پارٹی، الجماعۃ الاسلامیہ اور تعمیر وترقی پارٹی نے اسکندریہ میں نماز جمعہ کے بعد مظاہرے کی اپیل کر رکھی تھی اور ان کے ہزاروں حامیوں نے قائد ابراہیم مسجد کے باہر سے ریلی نکالی جبکہ ان کے مقابلے کے لیے حزب اختلاف کے سیکڑوں کارکنان بھی سڑکوں پر آ گئے۔

اسکندریہ میں حکومت کے حامیوں اور حزب اختلاف کے درمیان جھڑپیں آئین پر ریفرینڈم کے دوسرے مرحلے کے لیے پولنگ سے ایک روز پہلے ہوئی ہیں۔ پندرہ دسمبر کو ریفرینڈم کے پہلے مرحلے میں ستاون فی صد ووٹروں نے آئین کے حق میں ووٹ دیا تھا اور اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ مصری شہری اسلام پسندوں کے مرتب کردہ آئین کی منظوری دے دیں گے۔ حزب اختلاف نے اپنے حامیوں پر زور دیا ہے کہ وہ آئینی ریفرینڈم میں حصہ لیں اور آئین کی مخالفت یعنی 'ناں' میں ووٹ ڈالیں۔

حزب اختلاف کی جماعتوں پر مشتمل اتحاد نیشنل سالویشن فرنٹ نے ایک بیان میں اپنے حامیوں پر زور دیا ہے کہ وہ ناانصافی اور اخوان المسلمون کی بالادستی کو مسترد کر دیں اور ملک کے مستقبل کےمفاد میں آئین کے خلاف ووٹ دیں۔ فرنٹ کے ایک لیڈر عمروموسیٰ نے ایک نشری پیغام میں کہا کہ ''متنازعہ آئین کے ذریعے ملک میں استحکام نہیں آئے گا''۔